1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی سینیٹ میں چینی کرنسی کی قدر میں جان بوجھ کر کمی کے خلاف بل منظور

امریکی سینیٹ نے چین کی جانب سے اپنی کرنسی یوآن کی قدر کو جان بوجھ کر کم رکھنے کے خلاف منگل کو ایک بل منظور کیا۔ اس بل کے تحت یوآن کی قدر میں غیر منصفانہ کمی پر چینی برآمدات کے خلاف اضافی ڈیوٹیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔

default

سینیٹ میں اس بل کے حامیوں میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن دونوں ہی سینیٹر موجود تھے اور یہ 35 کے مقابلے میں 63 ووٹوں سے منظور ہو گیا۔ تاہم اس کو ایوانِ نمائندگان میں غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے جہاں ریپبلکنز کا پلہ بھاری ہے۔

بل کی حامی ڈیموکریٹک سینیٹر شیروڈ براؤن نے کہا، ’’ہم تجارتی جنگ میں ہیں مگر آج ہم جوابی کارروائی کر رہے ہیں۔‘‘

تاہم ریپبلکن ہاؤس اسپیکر جان بوہینر نے اس بات کی جانب اشارہ کیا ہے کہ وہ اس مجوزہ قانون پر رائے شماری نہیں کرائیں گے کیونکہ اس سے دنیا کی پہلی اور دوسری بڑی معیشتوں کے درمیان اقتصادی تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔

Textilindustrie in China

واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین نے غیر منصفانہ طور پر اپنی کرنسی یوآن کی قدر کو کم کر رکھا ہے، جس سے امریکی تجارتی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے

ادھر، چین نے اس پیش رفت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

چین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ما زہاؤکسو نے کہا، ’’یہ عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے امریکہ کے اقتصادی اور بیروزگاری کے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔‘‘

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سنہوا نے اپنے تبصرے میں کہا، ’’بعض امریکی سیاستدان آئندہ برس کے صدارتی انتخابات سے قبل رائے دہندگان کو متاثر کرنے کے لیے ملک کے اندرونی مسائل کے لیے چین کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔‘‘

صدر باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ’ تجارتی نظام کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے‘، جس سے امریکی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ تاہم انہوں نے عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین کی خلاف ورزی کے خدشے کے پیش نظر چین کے خلاف قانون سازی کی حمایت سے انکار کر دیا۔

Barack Obama / USA / UN / Libyen

صدر باراک اوباما نے گزشتہ ہفتے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ تجارتی نظام کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کر رہا ہے

واشنگٹن میں بہت سے افراد کا خیال ہے کہ چین نے غیر منصفانہ طور پر اپنی کرنسی یوآن کی قدر کو کم کر رکھا ہے، جس کے باعث امریکی مصنوعات سے ملتی جلتی چین کی مصنوعات کی قیمتیں 30 فیصد کم رہتی ہیں اور یوں تجارتی خسارے میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکی شہریوں کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑ رہے ہیں۔

اس قانون کے حامیوں نے کہا ہے کہ یوآن کی قدر میں اضافہ ہونے سے چینی باشندے زیادہ دولت مند ہو جائیں گے اور زیادہ امریکی مصنوعات خریدیں گے، جس سے امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور تجارتی خلیج کو پاٹنے میں مدد ملے گی۔

مگر اس اقدام کی مخالفت کرنے والوں کے خیال میں اس سے امریکی معیشت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کیونکہ صنعتیں اور ملازمتیں ویت نام اور ملائیشیا جیسے ملکوں کو منتقل ہو جائیں گی۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM