1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی سپلائی روٹ، وسطی ایشیا کی جانب منتقلی

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج افغانستان کے لیے اپنا سپلائی روٹ پاکستان کی بجائے وسطیٰ ایشیا کی جانب منتقل کر رہی ہے۔ اس کی وجہ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں تناؤ ہے۔

default

ہفتے کے روز امریکی روزنامے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں پینٹاگون کے ایک اہلکار کے حوالے سے نام ظاہر کیے بغیر بتایا گیا ہے کہ سن 2009ء میں افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے لیے مجموعی رسد کا 90 فیصد حصہ پاکستانی بندرگاہ کراچی کے ذریعے پہنچایا جاتا تھا جبکہ اب افغانستان کے لیے 40 فیصد رسد وسطی ایشیا سے ہو رہی ہے۔ پینٹاگون وسطی ایشیا سے افغانستان تک خوراک اور سازوسان کے روٹ کو شمالی تقسیمی نیٹ ورک قرار دیتا ہے۔

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کی کوشش ہے کہ رواں برس کے اختتام تک افغانستان میں فوجیوں تک رسد کا 75 فیصد وسطی ایشیا ہی کے روٹ سے پہنچایا جائے۔

NO FLASH Pakistan NATO Konvoi

اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ قازقستان، ازبکستان اور دیگر ممالک سے معاہدوں کی تجدید و ترویج میں مصروف ہے تاکہ جنگ زدہ ملک افغانستان میں متعین فوجیوں تک خوراک اور رسد کی فراہمی میں وسط ایشیائی روٹ کو مزید وسعت دی جاسکے۔

اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل میں بھی وسط ایشیائی روٹ کو ہی اہمیت دی جائے گی۔ اس طرح امریکی فوج افغانستان میں موجود فوجی گاڑیوں، آلات اور دیگر سازوسامان وسطی ایشیا کے روٹ ہی سے نکالے گی۔ واضح رہے کہ ستمبر 2012 تک افغانستان سے ایک تہائی امریکی افواج نکال لی جائیں گی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں برس کے اختتام تک امریکہ افغانستان سے دس ہزار فوجی واپس بلا لے گا جبکہ ستمبر 2012 تک 33 ہزار امریکی فوجی وطن واپس لوٹ جائیں گے جبکہ وہاں 65 ہزار امریکی فوجی باقی بچیں گے۔

واضح رہے کہ اس وقت افغانستان میں مجموعی طور پر ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی متعین ہیں، جن میں سے 99 ہزار امریکی فوجی ہیں۔ صدر باراک اوباما نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ سن 2014 تک افغانستان میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں مقامی فورسز کو منتقل کر دی جائیں گی۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس