امریکی سربراہی میں حملے، سینکڑوں سویلین ہلاک ہوئے، رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 03.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی سربراہی میں حملے، سینکڑوں سویلین ہلاک ہوئے، رپورٹ

امریکی سربراہی میں شام اور عراق میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف کیے جانے والے فضائی حملوں میں ممکنہ طور پر سینکڑوں سویلین ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ بات ایک مانیٹرنگ گروپ کی طرف سے آج پیر تین اگست کو بتائی گئی ہے۔

ایئر وارز نامی مانیٹرنگ گروپ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق خدشہ ہے کہ 57 فضائی حملوں میں 459 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ’فرینڈلی فائرنگ‘ کے مبینہ واقعات میں 48 افراد کی جان جا چکی ہے۔ ایئر وارز اسلامک اسٹیٹ کے خلاف کی جانے والے فضائی حملوں کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان معلومات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پا رہی کیونکہ جن علاقوں میں یہ واقعات رونما ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر اسلامک اسٹیٹ کے زیر قبضہ ہیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اتحادیوں کے فضائی حملوں میں شہریوں کی مبینہ ہلاکتوں کے دعوے تقریباً چوبیس گھنٹوں کے دوران سامنے آتے ہیں۔ مزید یہ کہ ایسے موقع پر بین الاقوامی دستوں کی جانب سے ایسی ہلاکتوں کو مسترد کرنا یا تعداد کم بتانا ایک لحاظ سے سمجھ میں آتا ہے، کیونکہ اس طرح اسلامک اسٹیٹ اور اسی طرح کے دیگر عسکریت پسند گروپوں کو اپنے پراپیگنڈے کو فروغ دینے کا موقع مل جاتا ہے۔

امریکا کی جانب سے عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف گزشتہ برس آٹھ اگست جبکہ شام میں 23 ستمبر کو حملے شروع کیے گئے تھے۔ اس کے بعد کئی ممالک اس اتحاد میں شامل ہوئے۔ اب تک یہ اتحاد ان دونوں ممالک میں آئی ایس کے خلاف پانچ ہزار آٹھ سو فضائی حملے کر چکا ہے۔

ابھی تک امریکا نے ان کارروائیوں میں دو عام شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق شام میں کیے جانے والے اس حملے میں ہلاک ہونے والے دو بچے تھے جبکہ اس دوران دو بالغ افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

دوسری جانب شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں آئی ایس کے خلاف جاری امریکی کارروائیوں میں اب تک 173 مقامی باشندے ہلاک ہو چکے ہیں۔ آبزرویٹری نے مزید بتایا کہ ان میں زیادہ تر ہلاکتیں الرقہ، حلب اور الحسکہ صوبوں میں ہوئیں۔