1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی ریٹیلر وال مارٹ کو صنفی امتیاز کے مقدمے کا سامنا

امریکی سپریم کورٹ میں بڑے کاروباری ادارے وال مارٹ کو صنفی امتیاز کی پالیسی اپنانے پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا ہے۔ پانچ لاکھ خواتین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ادارے نے امتیازی رویہ اپنا رکھا ہے۔

default

امریکی وزارت انصاف کے مطابق وال مارٹ کو جس مشکل کا سامنا ہے، اس کی وجہ ماتحت عدالت کا فیصلہ ہے، جس میں اس کے خلاف صنفی امتیاز برتنے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ہائی کورٹ کے جج انتھونی کینیڈی نے فیصلے میں لکھا ہے کہ صنفی امتیاز کے حوالے سے قانونی پالیسی کیا ہے، اس سے قطع نظر وال مارٹ نے ایسا رویہ اپناتے ہوئے عورتوں کو محروم رکھا اور مردوں کو خاص طور پر ترجیح دی گئی ہے۔

وال مارٹ کی جانب سے خواتین پر مردوں کو فوقیت دینے کی تردید کی گئی ہے۔ شکایت کنندگان کے مطابق وال مارٹ نے اپنے 34 سو اسٹورز پر امتیازی رویے کی پالیسی کو اپنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ادارے میں یہ عمل سن 1998 سے جاری ہے۔

وکلاء کے مطابق اس مقدمے میں اربوں ڈالر کا معاملہ عدالت کے سامنے پیش ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے صرف وال مارٹ ہی نہیں اور بھی بہت سے ادارے اپنے ہاں معاملات کو درست کریں گے۔ وکلا کے مطابق اگر عدالت نے وال مارٹ کے خلاف فیصلہ دیا تو اسے گزشتہ تیرہ سالوں کے بقایاجات ادا کرنے ہوں گے جو ایک کثیر رقم بنتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے خیال میں کئی مرد ملازمین کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ۔ ایسا ہوا تو انہیں دی گئی رقم کی وصولی بھی ایک سردرد ہو گا۔

وال مارٹ کے خلاف دیوانی مقدمہ کافی سالوں سے جاری ہے۔ فریقین کے وکلاء اس مناسبت سے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی بھی کوشش میں ہیں۔

امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے اس مقدمے کا فیصلہ رواں سال ماہِ جون میں سنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین اور کاروباری حضرات کا خیال ہے کہ عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ اس لیے تاریخی ہو گا کہ اس کے بعد کاروباری اور مالی حلقوں کا منظر بدل سکتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کئی اور ملازمین بھی عدالتوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ وکلاء کا خیال ہے کہ موجودہ سپریم کورٹ میں قدامت پسند رجحان کے حامل ججوں کی تعداد زیادہ ہے اور یہ عموماً کاروباری حضرات کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس