1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی ریاست مشیگن میں اندھا دھند فائرنگ، سات افراد ہلاک

امریکی ریاست مشیگن کی کاؤنٹی کالامازو میں بلا اشتعال فائرنگ کے ایک واقعے میں کم از کم سات افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ چار افراد کو ایک ریسٹورنٹ میں جبکہ دو مزید کو کالامازو کے ایک اور علاقے میں ہلاک کر دیا گیا۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ کل ہفتے کی رات پیش آیا، جب سب سے پہلے پولیس کو ایک عمارت میں بلایا گیا جہاں ایک خاتون کو گولیاں ماری گئیں۔ یہ خاتون اس وقت شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں ہے۔ اس واقعے کے کئی گھنٹے بعد پولیس کو ایک کار ڈیلر شپ پر بلایا گیا، جہاں دو افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہو چکے تھے جبکہ ایک شدید زخمی تھا۔

فائرنگ کا تیسرا واقعہ ٹیکساس ٹاؤن شپ میں ایک ’کریکر بیرل‘ ریسٹورنٹ میں پیش آیا۔ وہاں حملہ آور نے مختصر بات چیت کے بعد کاروں میں سوار افراد پر فائرنگ شروع کر دی اور چار افراد کو ہلاک کر دیا۔ وہاں ایک پانچواں شخص شدید زخمی ہوا ہے۔

پولیس کے مطابق فائرنگ تین مختلف مقامات پر کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وین میں سوار ایک شخص اندھا دھند گولیاں چلا رہا تھا اور یہ کہ مشتبہ ملزم اس وقت پولیس کے حراست میں ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایم ٹی چینل نے کالامازو پبلک سیفٹی چیف جیف ہیڈلی کے حوالے سے بتایا کہ جس شخص پر اس واردات میں ملوث ہونے کا ’قوی شبہ‘ ہے، اُسے پولیس اپنی حراست میں لے چکی ہے۔ ابتدائی رپورٹوں میں ظاہر کیا گیا تھا کہ مشتبہ شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

اِس وقوعے میں ایک ٹین ایجر لڑکی کے ہلاک ہونے کا بتایا گیا ہے۔ اِس کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا تھا۔

کالامازو پولیس کے انڈر شیرف پال ماتیاس نے این بی سی نیوز کو بتایا:’’ہمیں غالباً اپنی نوعیت کے بدترین کیس کا سامنا ہے کہ جس میں ایک شخص گاڑی چلاتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔‘‘ ماتیاس نے فوکس نیوز سے باتیں کرتے ہوئے بتایا:’’عوام کے لیے خطرہ ٹل چکا ہے، ملزم اب ہماری حراست میں ہے۔‘‘ ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ اُس کی عمر پنتالیس برس کے لگ بھگ ہے۔ اس سے پہلے عینی شاہدین نے ’سفید فام‘ حملہ آور کی عمر تقریباً پچاس برس بتائی تھی۔

USA Kalamazoo Google Maps

مشیگن کی کاؤنٹی کالامازو

جن جن مقامات پر فائرنگ کی گئی، اُن میں سوائے حملہ آور کے کوئی قدرِ مشترک نہیں ہے۔ ابھی تک کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کہ اس فائرنگ کے محرکات کیا تھے۔ حملہ آور کی طرح مرنے والوں کی شناخت بھی ابھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ ایک مقامی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مرنے والوں میں ایک آٹھ سالہ لڑکا بھی شامل ہے تاہم بعد میں دیگر رپورٹوں میں بتایا گیا کہ یہ لڑکا زخمیوں میں شامل ہے۔