1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی رپبلکن پارٹی میں صدارتی امیدوار بننے کی ریس

اگلا سال امریکی سیاست میں صدارتی الیکشن کی وجہ سےبہت اہم ہے۔ ری پبلکن پارٹی ایک مضبوط امیدوار کی تلاش میں ہے۔ سابقہ الیکشن میں اوباما نے ری پبلکن امیدوار جان میک کین کو ہرایا تھا۔

default

نیوٹن لیوری گینگریچ

سن 2012 کے صدارتی الیکشن کے لیے امریکہ کی سیاسی جماعت ری پبلکن پارٹی میں مرکزی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مختلف سیاسی لیڈروں کے درمیان ریاستی سطح پر پرائمریز کا سلسلہ جاری ہے۔ ری پبلکن پارٹی کی جانب سے شروع میں اس ریس میں تین چار نام تھے لیکن اب نامزدگی کے حصول کا فوکس دو امیدواروں پر مرکوز ہو گیا ہے۔ ان میں ایک مِٹ رامنی اور دوسرے نیُوٹ گینگریچ ہیں۔

امریکہ میں ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار بننے کے حوالے سے تازہ اعداد و شمار کے مطابق نیُوٹ گینگریچ  (Newt Gingrich) کی مقبولیت میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس جائزے نے واضح کیا ہے کہ گینگریچ اور ٹاپ امیدوار کے درمیان مقبولیت کا فرق کم ہو کر رہ گیا ہے۔

ان تازہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیوٹن لیوری گینگریچ (Newton Leroy Gingrich) نے امریکی ریاست آئیووا (Iowa) اور جنوبی کیرولینا میں اپنی پارٹی کے اہم صدارتی امیدوار مِٹ رامنی (Mitt Romney) کے مقابلے میں سبقت حاصل کرتے ہوئے پارٹی کے پسندیدہ امیدوار کے بننے کی منزل کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ بزنس مین سیاستدان رامنی کو ری پبلکن پارٹی کے کٹر قدامت پسند اراکین کی مخالفت کا سامنا ہے۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کی مہم پر نگاہ رکھنے والے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیُوٹ گینگریچ کو سیاہ فام رہنما ہرمین کین کی جانب سے دستبرداری کے اعلان سے بھی فائدہ پہنچا ہے۔ واشنگن پوسٹ کے ایک جائزے کے نتائج کے مطابق گینگریچ کو آئیووا (Iowa) میں رامنی پر واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح وِن تھروپ یونیورسٹی کی جانب سے کروائے گئے رائے عامہ کے جائزے کے اعداد و شمار کے مطابق جنوبی کیرولینا میں بھی لوگوں نے گینگریچ کے صدارتی امیدوار بننے کو پسند کیا ہے۔ گینگریچ کی دو امریکی ریاستوں میں کامیابی کے بعد بھی اب تک اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مِٹ رامنی کو صدارتی امیدوار بننے میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس