1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

امریکی رقاص گروپ نصف صدی بعد پھر سے کیوبا میں

تقریباﹰ نصف صدی بعد امریکی رقاص تھیٹر کمپنی رواں برس کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر کیوبا میں اپنے فن کا مظاہرہ کرے گی۔ اس کمپنی کو اوباما انتظامیہ کی جانب سے خصوصی اجازت دی گئی ہے۔

default

کیوبا کے شہر ہوانا کے کارل مارکس تھیٹر میں رواں برس کے اختتام پر ہونے والے بین الاقوامی میلہء رقص میں شرکت کے لئے امریکی رقاصوں پر مشتمل یہ کمپنی اس خصوصی اجازت نامے کے باعث پانچ دہائیوں بعد پہلی مرتبہ اس میلے میں امریکہ کی نمائندگی کرے گی۔ اس کمپنی نے اس فیسٹیول میں آخری بار سن 1960ء میں شرکت کی تھی۔

Bahia Ballet in Köln

سٹیج پر رقص کا ایک منظر

عام امریکی سیاحوں پر کیوبا کے لئے سفر پر پابندی تو فی الحال برقرار ہے تاہم اس کمپنی کو دیے گئے اس خصوصی اجازت نامے سے سرد جنگ کے دور کے دو دشمن ممالک سمجھے جانے والے ممالک امریکہ اور کیوبا کے درمیان تعلقات میں آتی بہتری دیکھی جا سکتی ہے۔

یہ امریکی کمپنی نومبر کی تین اور چار تاریخوں کو چند امریکی ڈراموں کے مناظر بھی پیش کرے گی۔ اس کمپنی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر راچل مورے نے ہوانا میں ایک پریس کانفرنس میں اس دورے کا اعلان کیا۔

’’میں سیاست کے حوالے سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی مگر میں سمجھتی ہوں، فن برادریوں اور قوموں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتا ہے۔ رقص فن کی وہ قسم ہے جسے سمجھنے کے لئے بہت زیادہ علم کی ضرورت نہیں ہوتی اور یہ آسانی سے دلوں میں اتر جاتا ہے۔‘‘

Deutschland Geschichte Theater Balettschule der Berliner Staatsoper

اس گروپ نے کیوبا میں آخری بار نصف صدی قبل پرفارم کیا تھا

میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس بار بھی اس کمپنی کا یہ دورہ منسوخ ہونے والا تھا کیونکہ اس دورے کے لئے اس کمپنی سے مالی تعاون کرنے والی کمپنیوں کو واشنگٹن کی طرف سے اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ تاہم ایسے حالات میں کیوبا کے حکام نے امریکی رقاص وفد کے لئے تمام تر اخراجات اور رہائش کا اعلان کر کے اس دورے کے راستے کی رکاوٹیں دور کر دیں۔

اس کمپنی کی اس فیسٹیول میں آخری بار شمیولت فیڈل کاسترو کے انقلاب کے صرف ایک برس بعد ہوئی تھی۔

منگل کے روز امریکی حکام نے کہا تھا کہ اوباما انتظامیہ کیوبا کے سفر پر عائد پابندیاں نرم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی ہے۔ واشنگٹن کے اس ممکنہ اقدام سے ابتدا میں امریکی طلبہ، محققین اور ماہرین تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی اور ثقافتی گروپس کو مستفید ہونے کا موقع دیا جائے گا۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کیوبا کے خلاف گزشتہ 48 برس سے عائد تجارتی پابندیوں میں نرمی کا کوئی منصوبہ اوباما انتظامیہ کے پیش نظر نہیں ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس