1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی دارالحکومت میں خواتین کا مارچ رات بھر جاری رہا

نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ پالیسیوں کے خلاف واشنگٹن ڈی سی میں ویمنز مارچ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد شریک ہوئے۔ اِس احتجاج میں شریک افراد رات بھر امریکی دارالحکومت کی سڑکوں پر مارچ کرتے رہے۔

امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں خواتین کا انتہائی بڑا مارچ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جاری رہا۔ منتظمین کے مطابق مارچ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی اور اسے واشنگٹن ڈی سی کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع قرار دیا گیا ہے۔امریکی دارالحکومت کی داخلی سکیورٹی کے سربراہ کرسٹوفر گیلڈارٹ نے بھی تصدیق کی ہے کہ خواتین کے مارچ میں شرکاء کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔

 مظاہرین نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔ ان احتجاجی ریلیوں کے شرکاء کا خیال ہے کہ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں نسلی تعصب اور سخت رویوں کی ترویج ممکن ہے اور یہ امریکی اقدار کے منافی ہے۔

Women's March 2017 - Washington D.C. (picture alliance/dpa/Zumapress)

نتظمین کے مطابق مارچ میں پانچ لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی

 پولیس کی ایک بڑی تعداد سائیکلوں، موٹر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر مارچ کے ساتھ ساتھ رہی۔ واشنگٹن ڈی سی کے کئی علاقوں کو اتوار کی علی الصبح سے معمول کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جب سی آئی اے کی عمارت کا دورہ مکمل کر کے واپس وائٹ ہاؤس جا رہے تھے، تو ان کا سامنا ویمنز مارچ سے ہوا۔ کئی ایک مقامات پر صدر کا قافلہ مظاہرین کے درمیان میں سے گزرا۔ صدارتی قافلے کو دیکھ کر مظاہرین نے اُن کے خلاف زوردار نعرے لگائے اور گلابی رنگت والے نشان کو بلند بھی کیا۔ اسی طرح نیویارک اور شکاگو میں بھی گلوبل ویمنز مارچ کے تحت جلوس نکالے گئے۔ نیویارک میں مظاہرین نے مین ہٹن کے علاقے میں واقع صدر کے گھر تک مارچ کیا۔

New York City Women's March Trump Proteste (Reuters/S. Keith)

کئی خواتین ٹرمپ مخالف بینر اٹھائے ہوئے بھی تھیں

ویمنز مارچ میں معروف امریکی گلوکارہ میڈونا بھی شریک تھیں۔ انہوں نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد امریکا کو ایک تاریک دور کا سامنا ہے اور اُن سمیت تمام خواتین اِس صورت حال پر خوفزدہ نہیں ہیں۔

 ہفتہ، اکیس جنوری کو پولیس نے مارچ کے دوران کوئی گرفتاری نہیں کی۔ یہ پرامن انداز میں جاری رہا۔ اِس مارچ سے ایک روز قبل جمعہ، بیس جنوری کو 230 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان گرفتار شدگان کو پرتشدد ہنگامہ آرائی اور دوسرے افراد کو مشتعل کرنے کے الزامات کا سامنا ہو گا۔ الزام ثابت ہونے کی صورت میں دس برس تک کی سزا اور ڈھائی لاکھ ڈالر تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔