1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے : بُش دور میں

امریکی ادارے CIA کے سلسلے میں، تازہ بحث میں سوال یہ ہے کہ آیا بش دورمیں کانگریس، یا اُس کی کمیٹی کے، معلومات کے حق کی نفی کی گئی ہے۔ کیا CIA کے خفیہ منصوبوں کے بارے میں بُش حکومت کی دانستہ خاموشی قانونی طور پر جائز تھی۔

default

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کا لوگو

CIA کےخفیہ پروگراموں کے بارے میں بہت کچھ ابھی بھی غیر واضح ہے۔ ایک بات طے ہے کہ اس کی منظوری سابق صدر جارج ڈبلیو بُش نے امریکہ پر گیارہ ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے فوراﹰ بعد دی تھی۔ امریکی خفیہ سروس کے ایک سابقہ اہلکار کے بقول مقصد یہ تھا کہ جارج ڈبلیو بُش ایسے راستوں کی تلاش میں تھے جن پر چلتے ہوئے القاعدہ کے رہنماؤں کو ہلاک یا گرفتار کیا جاسکے۔ اس کے لئے CIA کے ایجنٹوں اور امریکی فوج کے خصوصی دستوں کے ایک چھوٹے سے گروپ کو ایک زمینی مشن کے لئے استعمال کیا جانا تھا۔

Barack Obama mit CIA Direktor Leon Panetta im CIA Headquarter

امریکی صدر اوباما اور سی آئی اے ادارے کے موجودہ سربراہ

اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹوں کے مطابق، یہ خفیہ پروگرام اپنے ابتدائی مراحل سے آگے نہ بڑھ سکا کیونکہ نقل وحمل کی مشکلات، قانونی تحفظات اور سفارتی تعلقات میں ممکنہ کشیدگی سمیت بہت سے سوال ایسے تھے جن کے جواب ڈھونڈنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مثلاﹰ یہ بھی کہ آیا ایسے کسی مشن کے لئے امریکہ کے متعلقہ اتحادی ملکوں کو اطلاع کی جائے، اور پھر یہ بھی کہ دانستہ قتل کے ان واقعات میں امریکہ کے ملوث ہونے کو کیسا چھپایا جا سکے گا؟

چونکہ یہ خفیہ پروگرام کبھی بھی اتنا آگے نہ بڑھ سکا کہ اس پر عمل درآمد کے بارے میں سوچا جاسکے، اس لئے اسے باقاعدہ طور پر ترک بھی نہیں کیا گیا تھا۔

Dick Cheney und George Bush

سابق امریکی صدر بُش اور اُن کے نائب صدر چینی

CIA کے بہت سے اہلکاروں اور کئی ریپبلکن ارکان کانگریس کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پروگرام منصوبہ بندی کے مرحلے سے آگے جا ہی نہ سکا، اس لئے امریکی کانگریس کی خفیہ اداروں سے متعلقہ کمیٹی کو اس بارے میں اطلاع کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

امریکی سینیٹ کے سرکردہ ڈیموکریٹ ارکان کی رائے اس سے مختلف ہے۔ خاتون سینیٹر Diane Feinstein کی رائے میں اگر خفیہ اداروں سے متعلق کانگریس کی کمیٹی کو اس بارے میں بتایا جاتا تو وہ اس پروگرام کی نگرانی بھی کرتی اور باقاعدہ رپورٹیں بھی طلب کرتی۔ لیکن وہ ایسا اس لئے نہیں کرسکے تھے کہ اُنہیں دانستہ اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔

اس پروگرام میں سابق نائب صدر ڈک چینی کا کردار کیا رہا، اس بارے میں ملنے والی رپورٹیں متضاد ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں چھپنے والی تفصیلات کے مطابق ڈک چینی نے CIA کو کھل کر ہدایت کی تھی کہ اس پروگرام کا کانگریس کو علم نہ ہو۔ تاہم اب CIA کےسابق سربراہ نے کہہ دیا ہے کہ ڈک چینی نے انہیں اس پروگرام کو خفیہ رکھنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔

اس پس منظر میں امریکی سینیٹ کے ڈیمو کریٹک ارکان یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ CIA کے نئے سربراہ لیون پینیٹا کو بھی اس خفیہ پروگرام کا علم اتنی تاخیر سے کیوں ہوا۔ سینیٹر شیلڈن وائٹ ہاؤس کہتے ہیں کہ وہ اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ CIA کے نئے سربراہ کو بھی اس پروگرام کا کئی مہینوں تک علم نہ ہوسکا۔

ان معاملات کے باعث موجودہ صدر اوباما پر یہ دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اپنے پیش رو جارج ڈبلیو بُش کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر کئے گئے اُن متنازعہ اقدامات کی چھان بین کروائیں جو اوباما کو سیاسی طور پر وراثت میں ملے ہیں۔