1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی خفیہ ادارے NSA کے بارے میں تازہ انکشافات

امریکی جریدے ”USA ٹُو ڈے“ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکی خفیہ ادارہ نیشنل سیکیورٹی ایجنسی NSA گذشہ کئی برسوں سے کئی ملین امریکیوں کے بارے میں منصوبہ بندی کےساتھ ایسے اعداد و شمار جمع کرتا رہا ہے، جن سے اُن کی ٹیلیفون کی عادات کا پتہ چلتا ہے۔ سرکردہ امریکی سیاستدانوں نے اِس صورتحال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن امریکی صدر بُش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے اِس طرح کے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔ و

default

اشنگٹن سے Daniel Scheschkewitz کی بھیجی ہوئی رپورٹ

بُش حکومت اب تک اِس بات کا تو اعتراف کرتی رہی تھی کہ NSA کے اندر لوگوں کے ٹیلیفونز کی نگرانی کا پروگرام موجود ہے لیکن یہ کبھی نہیں بتایا گیا تھا کہ درحقیقت کتنے امریکی شہری اِس پروگرام کی زَد میں آتے رہے ہیں یا اب بھی ہیں۔

تاہم امریکہ کے سب سے زیادہ پڑھے جانےوالے جریدے یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق قومی سلامتی کا محکمہ NSA سن2001ء سے مجموعی طور پر دَس ملین افراد کی ٹیلیفون عادات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اِس محکمے کو یہ اعداد و شمار سرکردہ ٹیلی فون کمپنیوں At&T، Verzion اور Bell South کی جانب سے رضاکا رانہ طور پر فراہم کئے گئے۔ محض ایک فون کمپنی Qwest نے اپنے گاہکوں کے اعداد و شمار NSA کے حوالے کرنے سے انکار کیا۔

غالباً یہ خفیہ سروِس یہ جانچنا چاہتی تھی کہ کس فرد کی ٹیلیفون کی عادات مشکوک معلوم ہوتی ہیں۔ یہ بات البتہ ابھی تک غیر واضح ہے کہ درحقیت اِس خفیہ ادارے نے کتنی بڑی تعداد میں ٹیلیفون گفتگوئیں اور ای میلز سُنیں یا پڑھیں۔

جریدے USA ٹوڈے کو یہ ساری معلومات اِسی خفیہ ادارے کے اندرسے ایک نامعلوم خاتون نے فراہم کی ہیں۔ اِس مخبر خاتون کےمطابق اِن سارے اقدامات کا مقصد اعداد و شمار کا ایک قومی بینک قائم کرنا تھا، جسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جا سکے۔

ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن Patrick Leahy کی طرح کے سیاستدانوں نے NSA کے اِس پروگرام کی زبردست مذمت کی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ”یہ انتہائی شرم کی بات ہے کہ ہم ہر بات مانتے چلے جاتے ہیں۔ حکومت جو بھی کچھ عزائم رکھتی ہے، ہم اُس کی ہاں میں ہاں ملاتے چلے جاتے ہیں۔ ری پبلکن اراکین کے غلبے والی کانگریس تنقیدی سوالات کرنے سے گریز کرتی ہے اور ہمیں کہیں اخبارات سے پتہ چلتا ہے کہ اِس ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس میں بیٹھنے سے بہتر ہے، ہم اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔“

امریکی صدر جورج ڈبلیو بُش نے فوری طور پر اِس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی کہ امریکی شہریوں کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ جریدےUSA ٹوڈے کی رپورٹ کی تردید یا تصدیق کئے بغیر بُش نے دعویٰ کیا کہ تمام تر کارروائیاں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ بُش نے کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی نجی زندگی کی سختی سے حفاظت کر رہی ہے۔ ہم اپنے شہریوں کے ذاتی معاملات کی ٹوہ لگاتے یا سن گن نہیں لیتے۔

بُش نے یہ بھی کہا کہ اِس طرح کی ساری سرگرمیاں صرف اور صرف القاعدہ کے خلاف کی جا رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہ دونوں بڑی امریکی جماعتوں کے چِیدہ چِیدہ اراکین کو نگرانی کے اِس پروگرام کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔ اِن وضاحتوں کے باوجود امریکی سینٹ میں انصاف کے امور سے متعلقہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر Arlen Spector نے اعلان کیاہے کہ وہ معاملے کی وضاحت کے لئے متعلقہ ٹیلی فون کمپنیوں کو سینٹ میں بلائیں گے۔

اب تک بُش حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی تھی کہ دہشت گردی کے سلسلے میں NSA کے نگرانی کے پروگراموں میں امریکی شہریوں کی ٹیلی فون پر ہونےوالی صرف اُس گفتگو پر نظر رکھی جاتی ہے، جو بیرونی ممالک کےلئے ہوتی ہے۔

یہ تازہ انکشافات اِس لئے بھی ہنگامہ خیز ہیں کہ بُش نے حال ہی میں CIA کے ئے سربراہ کے لئے فضائیہ کے جنرل مائیکل Hayden کا نام تجویز کیا تھا۔ یہی جنرل Hayden اب ایک بار پھر خبروں کا موضوع بننے والے اِس خفیہ ادارے NSA کی سن 1999ء سے لے کر2005ء تک قیادت کرتے رہے تھے۔