1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی خفیہ ادارے کے ڈائریکٹر مستعفی

امریکی خفیہ اداے کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ان کے دور میں این ایس اے کی طرف سے بڑے پیمانے پر خفیہ نگرانی کرنے کا اسکینڈل سامنے آیا تھا، جس نے پوری دنیا میں ہل چل مچا دی تھی۔

امریکی خفیہ ادارے کے ڈائریکٹر نے اپنا استعفیٰ تو جمع کروا دیا ہے لیکن وہ اوباما انتظامیہ کے اختتام تک اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔ کلیپر کا کانگریس کی ایک انٹیلی جنس کمیٹی کی سماعت کے دوران کہنا تھا، ’’گزشتہ رات میں نے اپنا استعفیٰ جمع کروا دیا تھا۔ اب میرے پاس صرف چونسٹھ دن باقی بچے ہیں۔‘‘

پچھہتر  سالہ جیمز کلیپر سن دو ہزار دس سے امریکی خفیہ ادارے کے ڈائریکٹر چلے آ رہے ہیں اور انہیں امریکی صدر باراک اوباما کا انتہائی بااعتماد ساتھی سمجھا جاتا ہے۔ جنوری میں باراک اوباما اپنا عہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے کر دیں گے اور امریکی خفیہ ادارے کی سربراہی ٹرمپ اپنی مرضی کے امیدوار کو سونپ دیں گے۔

Spionage NSA Skandal (picture alliance/dpa/P. Steffen)

نیشنل سکیورٹی ایجسنی (این ایس اے) کے سابق ملازم ایڈروڈ سنوڈن یہ راز منظر عام پر لے آئے تھے کہ امریکی خفیہ ادارے بڑے پیمانے پر جاسوسی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں

کلیپر گزشتہ چھ دہائیوں سے امریکی حکومت کے لیے خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے کیرئیر کا آغاز ساٹھ کی دہائی میں امریکی فضائیہ میں بھرتی ہونے سے کیا تھا۔ امریکا کی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے ٹاپ ڈیموکریٹ  سیاستدان ایڈم شیف کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’کلیپر نے ہمیشہ اچھے فیصلے کیے اور ہمیشہ قوم کے مفاد کو فوقیت دی۔‘‘

کلیپر گزشتہ بیس برسوں سے امریکی محکمہ دفاع اور انٹیلی جنس کمیونٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

سن دو ہزار تیرہ میں خفیہ ادارے کے اس اعلیٰ عہدیدار نے کانگریس میں گواہی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ادارہ بڑے پیمانے پر امریکی شہریوں کے خفیہ نگرانی نہیں کر رہا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے۔

لیکن اس کے بعد نیشنل سکیورٹی ایجسنی (این ایس اے) کے سابق ملازم ایڈروڈ سنوڈن یہ راز منظر عام پر لے آئے تھے کہ امریکی خفیہ ادارے بڑے پیمانے پر جاسوسی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس وقت یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ امریکا اپنے اتحادی ملکوں کے سرکردہ رہنماؤں کی جاسوسی بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس کے جواب میں کلیپر کا کہنا تھا کہ اتحادیوں کی نگرانی ضروری ہے اور یورپ کے کروڑوں باشندوں کے موبائل فونز کا ڈیٹا یورپی حکومتوں کے تعاون سے اکٹھا کیا گیا ہے۔