1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی خفیہ اداروں کے 29 فیصد اہلکار کنٹریکٹ ملازمین

امریکی خفیہ ادارے نجی شعبے کی سکیورٹی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی صورت میں بہت بڑی تعداد میں ایسے ما‍ ہرین کی خدمات بھی استعمال کر رہے ہیں، جو ان خفیہ ایجنسیوں کے اپنے ملازمین نہیں ہوتے۔

default

اس کی ایک مثال امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے نواح میں ریاست ورجینیا میں لینگلی کے مقام پر CIA کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ وہاں کام کرنے والے اہلکار اپنی شناخت کے لیے اپنے سینوں پر نیلے یا سبز رنگ کے بیج لگائے ہوئے ہوتے ہیں۔ سی آئی اے کی حد تک اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیلے رنگ کے بیجز والے کارکن اس خفیہ ادارے کے اپنے کل وقتی ملازمین ہیں۔ لیکن جو بہت سے دوسرے اہلکار اپنے سینوں پر سبز بیج لگائے ہوتے ہیں، وہ اس ایجنسی کے ایسے خفیہ کارکن ہوتے ہیں، جو محدود عرصے کے لیے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین کے طور پر CIA کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔

سی آئی اے کے انہی کنٹریکٹ ملازمین میں سے ایک ریمنڈ ڈیوس بھی ہے، جو ان دنوں پاکستان میں دہرے قتل کے ایک واقعے کے سلسلے میں زیر حراست ہے۔ پاکستان میں ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور امریکہ سکیورٹی اداروں کے لیے ٹھیکے پر کام کرنے والے ملازمین کے حوالے سے تفصیلات منظر عام پر آنے کے بعد یہ بات بھی اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ امریکی خفیہ اداروں اور امریکی حکومت کی سکیورٹی فورسز میں عام طور پر محدود مدت کے لیے حاصل کی گئی ایسے کارکنوں کی خدمات پر کتنا زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

اس رجحان میں خاص طور پر بہت زیادہ اضافہ امریکہ میں 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کے سالوں میں دیکھنے میں آیا۔ اس حوالے سے امریکہ ہی کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ایک ماہر اور سی آئی اے کے ایک سابقہ اہلکار پال پِلر کہتے ہیں کہ ان حقائق کے منظر عام پر آنے سے اس سلسلے میں پائی جانے والی تشویش اور بڑھ جائے گی۔

امریکی سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی جولائی 2009ء میں تیار کردہ ایک رپورٹ میں اس حوالے سے 2008ء کے اعداد وشمار کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ تب امریکہ کے تمام خفیہ اداروں کے ملازمین کی مجموعی تعداد میں سے 29 فیصد کارکن ایسے تھے، جو ان ایجنسیوں کے اپنے ملازمین نہیں تھے بلکہ ان کی خدمات محدود عرصے کے ملازمت کے معاہدوں کے تحت حاصل کی گئی تھیں۔

سکیورٹی ماہرین کے مطابق امریکی خفیہ اداروں کے لیے عام طور پر یہ کام بہت مشکل ہو تا ہےکہ وہ نجی شعبے کے ماہرین میں سے ایسے افراد کا انتخاب کر سکیں، جو اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں کے حوالے سے ملکی خفیہ سروسز کے تقاضوں پر پورے اتر سکیں۔ ایسے ملازمین کو کی جانے والی مالی ادائیگیاں امریکہ انٹیلی جنس اداروں کے اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے زیادہ ہوتی ہیں۔

امریکی سینیٹ کی جولائی 2009ء کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں سیکرٹ سروسز کے کارکنوں کو مالی ادائیگیوں کے لیے جتنا بھی سالانہ بجٹ رکھا جاتا ہے، اس میں سے 49 فیصد کنٹریکٹ ملازمین کے لیے ہوتا ہے، حالانکہ افرادی قوت کے حوالے سے ان اداروں میں ایسے کارکنوں کا تناسب صرف 29 فیصد بنتا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے کی گئی چھان بین کے مطابق سن 2010ء تک امریکہ میں سکیورٹی کے شعبے میں کل 1931 نجی فرمیں کام کر رہی تھیں اور ان کے مہیا کردہ کارکن امریکی حکومت میں خفیہ اداروں کی سطح پر اہم ترین شعبوں تک میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان قریب 2000 پرائیوٹ سکیورٹی کمپنیوں میں سے تقریباﹰ ایک چوتھائی 2001ء کے بعد وجود میں آئی تھیں اور ان کا کاروبار ابھی تک زوروں پر ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس