1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی حکومت لیبیا کو اسلحہ فراہم کرنے پر تیار

امریکا اور دیگر عالمی طاقتیں لیبیا میں جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کے لیے طرابلس کی بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیبیا میں قذافی کے دور کے بعد دو متوازی حکومتیں فعال ہو گئی تھیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے سولہ مئی بروز پیر کے دن شائع کردہ اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ویانا میں لیبیا پر ہونے والے عالمی مذاکرات میں امریکا اور دیگر ممالک نے لیبیا کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت کو اسلحہ فراہم کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

DW.COM

فی الحال اس شمالی افریقی ملک کو اسلحہ فراہم کرنے پر پابندی عائد ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر اس حکومت کو اسلحہ فراہم کیا گیا تو وہ دیگر جنگجو گروہوں کے ہاتھ جا سکتا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ عالمی برداری لیبیا پر اسلحے کی فراہمی پر عائد اقوام متحدہ کی پابندی کو ختم کرانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس ملک میں داعش ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

گزشتہ ماہ ہی لیبیا کی حکومت نے کہا تھا کہ اس ملک میں داعش کا اثرورسوخ بڑھتا جا رہا ہے اور اگر ان جہادیوں کا مقابلہ نہ کیا گیا تو وہ ملک بھر میں پھیل سکتے ہیں۔

جان کیری کے بقول لیبیا کی بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت ہی ملک کو متحد رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی حکومت ہی داعش کو شکست دے سکتی ہے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ امریکا لیبیا کی اس حکومت کو مالی امداد بھی فراہم کرے گا تاکہ وہ اقتصادی مسائل سے نمٹنے کے قابل بھی ہو سکے۔

ویانا میں ہونے والے اس اجلاس کے اعلامیے کی ایک نقل اے پی کو موصول ہوئی ہے، جس کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان نے کہا ہے کہ وہ لیبیا کی حکومت کی درخواستوں کو تسلیم کرے گی۔

اس اجلاس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ غیر مستقل ارکان ممالک کے مندوبین نے بھی شرکت کی۔ لیبیا کی حکومت نے مطالبہ کیا ہے کہ اسلحے کی فراہمی پر عائد پابندی کو اٹھا لیا جائے۔

John Kerry Wien Österreich Libyen Gespräche

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ عالمی برداری لیبیا پر اسلحے کی فراہمی پر عائد اقوام متحدہ کی پابندی کو ختم کرانے کی کوشش کرے گی

اس اجلاس میں بیس سے زائد ممالک کے اعلیٰ سفارتکاروں نے لیبیا میں قیام امن کے لیے دیگر تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس میٹنگ سے قبل جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے البتہ کہا کہ اس مذاکراتی عمل سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جانا چاہییں۔

جرمن وزیر کے مطابق عالمی برداری لیبیا کی حکومت کی ہر ممکن مدد کو تیار ہے لیکن وہاں قیام امن اور اقتصادی ترقی کے لیے مقامی رہنماؤں نے ہی عزم ظاہر کرنا ہے۔