1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی حلقہٴ اثر میں پاکستان کی حیثیت کم ہونے کے خدشات

امریکا کی دہشت گردی کی خلاف عالمی جنگ میں پاکستان ایک اہم اتحادی ملک ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت بڑی تیزی سے پاکستان کو امریکی حلقے میں پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں پاکستان کا امریکا مخالف عسکری گروپوں کی مزاحمت کم کرنے میں اہم کردار ہے۔ کئی برسوں سے پاکستان اسٹریٹیجک نوعیت کے اہم امریکی اتحادی کی حیثیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ایسے اشارے سامنے آئے ہیں، جن سے محسوس ہوا ہے کہ امریکی نگاہ میں مسلسل پاکستان کی وقعت کم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اِس تناظر میں امریکا اور بھارت کے تعلقات میں بتدریج پیدا ہونے والی گرمجوشی کو بھی اہم خیال کیا گیا ہے۔

ماہرین پاکستان کی اہمیت میں کمی کو امریکا کی جانب سے دفاعی اور اقتصادی امداد میں رفتہ رفتہ کمی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اس مناسبت سے اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ واشنگٹن کے کئی اہم حکومتی اہلکار جوہری ہتھیاروں کے حامل اِس جنوبی ایشیائی ملک کے ساتھ مختلف معاملات پر عدم اعتماد رکھتے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں تمام تر عدم اعتماد کی فضا موجود ہونے کے باوجود پاک امریکی تعلقات گزشتہ ایک دہائی کے دوران افزائش پاتے رہے ہیں۔ تاہم اب اس میں خرابی کی ایک اہم وجہ افغانستان میں طالبان کی مختلف علاقوں میں پیش قدمی بھی ہے۔

Pakistan Anti USA Demonstration

پاکستان میں عوامی سطح پر امریکا مخالف جذبات کا حوالہ دیا جاتا ہے

امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں بین الاقوامی امور کے تھنک ٹینک وُوڈرو ولسن سینٹر میں جنوبی ایشیائی امور کے ماہر محقق مائیکل کوگلمین کا خیال ہے کہ حالیہ عرصے کے دوران امریکا کی جنوبی ایشیائی پالیسی میں واضح تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور پاک افغان صورت حال کی جگہ بھارت کو اہمیت دینا شروع کی گئی ہے۔ مائیکل کوگلمین جیسے ریسرچرز کا خیال ہے کہ پاک امریکی تعلقات میں مسلسل گراوٹ اور اعتماد کا فقدان کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے مگر علاقائی سطح پر پیدا ہونے والے اہم حالات و واقعات کی شدت بھی انہیں متاثر کرتی رہی ہے۔

پاکستان کے بارے میں امریکی بےچینی کی بنیادی وجہ اسلام آباد کی طرف سے ڈھکے چھپے انداز میں افغان طالبان کی عسکری کارروائیوں کی حمایت خیال کی گئی ہے۔ اس مناسبت سے امریکا کے فوجی اور خفیہ ادارے واضح موقف رکھتے ہیں۔ یہی حلقے امریکی صدر کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں کہ وہ کسی قیمت پر دوبارہ افغانستان کے مسلح معاملے میں شرکت سے گریز کریں۔

یہ امر اہم ہے کہ ایک وقت تھا کہ پاکستان امریکی امداد حاصل کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا اور اب رواں برس اِس مجموعی امداد کا حجم ایک بلین ڈالر سے بھی کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ سن 2011 میں یہ حجم 3.5 بلین ڈالر تھا۔