1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی حراستی کیمپوں میں قیدیوں پر جبر و تشدد

جبر و تشدد کے انسداد کےلئے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کا اگلا اجلاس آئندہ جمعے کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنی وا میں شروع ہو رہا ہے، جس میں جبر و تشدد کے حوالے سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ریکارڈ کو زیرِ غور لایاجائے گا۔ اِس کمیٹی میں امریکہ کو اب تک آخری مرتبہ سن 2000ء میں زیرِ بحث لایا گیا تھا۔ اِسی کمیٹی کے لئے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کی تفصیلات۔

کیوبا کا گوانتانامو حراستی کیمپ

کیوبا کا گوانتانامو حراستی کیمپ

جبر و تشدد کے انسداد کےلئے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی کےلئے 47 صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ عراق کی ابو غریب جیل کے اسکینڈل کے باوجود امریکہ نے قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات کے خلاف کافی اقدامات نہیں کئے۔ بلکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی امریکہ شاخ کے سربراہ Curt Goering تو یہ تک کہتے ہیں کہ اُلٹا امریکی حکومت نے ایک ایسا ماحول بنا دیا ہے، جس میں جبر و تشدد اور بدسلوکی کی دیگر صورتیں فروغ پا رہی ہیں۔

ایمنسٹی کے مطابق واشنگٹن حکومت سرکاری طور پر تو تشدد کی مذمت کرتی ہے لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ مثلاً عراق میں قیدیوں کے ساتھ بد سلوکی کے واقعات کے لئے اب تک کسی بھی بڑے فوجی افسر کو عدالت کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق واشنگٹن حکومت اب تک قیدیوں کے ساتھ ہونے والی بدسلوکی کے لئے بگڑے ہوئے فوجیوں اور نگرانی کی کمی کو قصوروار قرار دیتی رہی ہے جبکہ درحقیقت اِس بد سلوکی کی جڑیں تفتیش اور پوچھ گَچھ کے اُن طریقوں میں چھپی ہوئی ہیں، جن کی امریکی حکومت نے سرکاری طور پر منظوری دے رکھی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی تشدد کے انسداد کی کمیٹی نے گذشتہ سال نومبر میں امریکی حکومت سے بہت سے سوالات کے جواب چاہے تھے، جن میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ آیا واشنگٹن حکومت نے بیرونی ممالک میں خفیہ حراستی کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔

گذشتہ سال ہی کے اواخر میں واشنگٹن حکومت نے کمیٹی کو بتایا تھا کہ امریکہ بیرونی ممالک میں اپنے کیمپوں میں، جن میں کیوبا کا گوانتانامو بھی شامل ہے، ہزاروں قیدیوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے اور اپنے اقدام کو اِس جواز کے ساتھ جائز تصور کرتا ہے کہ جو جنگ وہ لڑ رہا ہے ، وہ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ تب البتہ واشنگٹن نے بیرونی ممالک میں خفیہ کیمپوں کی موجودگی کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

ایمنسٹی کی تازہ رپورٹ میں خود امریکہ کے اندر قیدیوں کے حقوق کی پامالیوں کو ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ امریکی سرزمین پر نہ صرف قیدیوں پر پولیس کے سپاہیوں کے تشدد کے واقعات بدستور جاری ہیں بلکہ ایسے واقعات بھی، جن میں یہ سپاہی جیلوں میں موجود خواتین قیدیوں کو جنسی زیادتی کا بھی نشانہ بناتے ہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں ایسے کئی حالیہ واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں امریکی حراستی کیمپوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کے مرتکب افراد کو زیادہ سے زیادہ پانچ ماہ کی سزائے قید دی گئی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق یہ وہی سزا ہے، جو امریکہ میں کسی بائیسکل چور کےلئے تجویز کی گئی ہے۔