1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی جنگی طیاروں کی ’دوستانہ بمباری‘، نو عراقی فوجی ہلاک

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کے بقول فلوجہ میں عراقی فوجیوں کی ہلاکت بظاہر امریکی جنگی طیاروں کی بمباری کی وجہ سے ہی ہوئی ہے۔ بغداد حکومت نے اس حوالے سے شواہد حاصل کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے عراقی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ جمعہ اٹھارہ دسمبر کو فلوجہ میں امریکا کی قیادت میں کیے گئے اتحادیوں کے ایک فضائی حملے میں نو عراقی فوجی مارے گئے۔ عراقی وزارت دفاع کی طرف سے بروز ہفتہ جاری کردہ ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بمباری غلطی فہمی کا نتیجہ تھی۔ تاہم ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ اصل حقائق جاننے کے لیے اور آئندہ ایسی کسی ’دوستانہ بمباری‘ سے بچنے کے لیے تفتیشی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ انہوں نے اس واقعے کے بعد عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ عراقی فوجیوں پر غلط فہمی میں بمباری کرنے والا جنگی طیارہ امریکا کا ہی تھا۔ مشرق وسطیٰ کے دورے پر گئے ہوئے کارٹر نے مزید کہا، ’’فی الحال ہمارے پاس یہی معلومات ہیں۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج نے بھی اس واقعے کی مکمل تفصیلات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ایشٹن کارٹر نے حیدر العبادی کے ساتھ گفتگو میں یہ بھی کہا کہ اس افسوسناک حادثے کی مکمل چھان بین کی جانا چاہیے، ’لیکن ایسی عسکری مہموں کے دوران اس طرح کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں‘۔ کارٹر نے رواں ہفتے ہی اپنے دورہ عراق کے دوران بغداد میں العبادی سے ملاقات کی تھی، جس میں داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی عسکری مہم پر مفصل تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ عراق اور شام میں فعال انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی عسکری کارروائیوں کی سربراہی امریکا کر رہا ہے۔

Irak Kämpfe

عراق اور شام میں فعال انتہا پسند گروہ داعش کے خلاف جاری بین الاقوامی عسکری کارروائیوں کی سربراہی امریکا کر رہا ہے

عراقی وزیر دفاع خالد العبیدی نے اس حادثے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلوجہ کے نزدیک ہی عراقی فوجی جہادیوں کے خلاف پیشقدمی میں مصروف تھے کہ امریکی عسکری اتحاد سے فضائی حملے کی درخواست کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خراب موسم کی وجہ سے عراقی ہیلی کاپٹر کو پرواز میں مشکلات کا سامنا تھا، اس لیے امریکی فضائیہ سے مدد طلب کی گئی تھی۔

العبیدی نے بتایا کہ اتحادی طیاروں نے دو حملوں میں جہادیوں کو کامیاب طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں عراقی زمینی فورسز کو پیشقدمی کا موقع ملا۔ تاہم تیسرا فضائی حملہ غلط فہمی سے عراقی فورسز ہی کے خلاف کر دیا گیا۔ اگر تصدیق ہو جاتی ہے تو عراق میں داعش کے خلاف امریکی اتحاد کے فضائی حملوں میں مقامی فورسز کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ ہو گا۔