1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی جنگی بحری جہازوں کی لیبیا کی جانب روانگی

ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے اپنی عسکری قوت دکھاتے ہوئے لیبیا کے رہنما معمر قذافی پر واضح کیا ہے کہ انہیں ہر صورت اقتدار چھوڑنا ہوگا۔

default

فائل فوٹو

امریکہ نے اپنے دو جنگی بحری جہاز لیبیا کی جانب روانہ کر دیے ہیں۔ لیبیا میں حکومت مخالف قوتیں مغربی ممالک سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ قذافی کے مسلح حامیوں پر فضائی بمباری کریں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر سے اطلاع دی ہے کہ دو امریکی جنگی بحری جہاز USS Kearsage اور USS Ponce نہر سوئز سے ہوتے ہوئے بحیرہء روم کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان جہازوں پر دو ہزار سے زائد فوجیوں کی موجودگی کی گنجائش ہے۔

خطے میں امریکی بحری اور فضائی قوت کی پوزیشن میں ہونے والی اس تبدیلی کو لیبیا کے حکمرانوں کے لیے ایک سخت اشارے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان جہازوں کا مقصد لیبیا میں پھنسے ہوئے افراد کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ فوجی کارروائی کے امکان کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے، ’’ہم بہت سارے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں، فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔‘‘ منگل تک بحیرہء روم کے علاقے میں امریکی جنگی جہازوں کی تعداد تین تھی، ان میں سے دو تباہ کن جنگی بحری جہاز تھے اور ایک USS Mount Whitney نامی بڑا بحری جہاز۔ جب امریکی وزیر دفاع سے پوچھا گیا کہ کیا بحیرہء احمر میں موجود طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی بحیرہء روم کی جانب بھیجا جاسکتا ہے، تو انہوں نے اس پر کسی تبصرے سے انکار کر دیا۔

Muammar al-Gaddafi Libyen Rede Ansprache NO FLASH

قذافی کے بقول مغربی طاقتوں نے ان سے ’بے وفائی‘ کی ہے

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ لیبیا اس وقت ایک ایسے موڑ پر ہے، جہاں سے یا تو شدید خانہ جنگی اور مکمل بربادی کی طرف جایا جا سکتا ہے یا پھر پر امن جمہوریت کی جانب۔

دوسری طرف لیبیا سے موصولہ اطلاعات کے مطابق قذافی کے حامی سکیورٹی دستوں نے ملک کے مشرقی علاقے اپوزیشن کے کنٹرول سے واپس حاصل کرنے میں کچھ پیشرفت کی ہے۔ امریکہ اور مغربی دفاعی اتحاد لیبیا کی فضاؤں میں ’نو فلائی زون‘ کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ معمر قذافی پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس