1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی جنرل پیٹریاس کی یمنی صدرصالح سے ملاقات

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے ملاقات کی ہے جس میں القاعدہ کے خلاف عسکری حکمت عملی کے امور زیر بحث رہے۔

default

جنرل ڈیوڈ پیٹریاس، فائل فوٹو

القاعدہ اور اس کی حامی انتہا پسند تنظیموں کے خلاف افغانستان اور پاکستان میں جاری فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ یہ اعلان بھی کر چکا ہے کہ یمن میں مسلسل اثرورسوخ حاصل کرتی جارہی القاعدہ کی ذیلی تنظیم کے خلاف وہاں کی حکومت کے تعاون سے زیادہ سے زیادہ کارروائیاں کی جائیں گی۔

اسی پس منظر میں امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ، جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے یمن کے صدر سے ملاقات کی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے جس وقت یمن اور صومالیہ سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا زیادہ بھر پور طریقے سے مقابلہ کرنے کا اعلان کیا گیا، تو تقریباً اسی وقت امریکی جنرل پیٹریاس یمن میں ملکی صدر علی عبداللہ صالح سے ملاقات کر رہے تھے۔

Vertrag zwischen Hamas und Fatah

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح درمیان میں، فائل ٰفوٹو

ڈیٹرائٹ کے ناکام دہشت گردانہ حملے کے نائیجیرین ملزم عمر فاروق عبدالمطلب کے مبینہ طور پر یمن میں القاعدہ کے ساتھ قریبی رابطے تھے۔ یمنی حکومت کے بقول وہ اپنے ملک کے بعض حصوں میں سرگرم القاعدہ کے خلاف عسکری کارروائیوں میں مصروف ہے۔

یمن میں القاعدہ کے انتہاپسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لئے ابھی حال ہی میں امریکی صدر اوبامانے نہ صرف یمن کے لئے مالی اور فوجی امداد میں بہت زیادہ اضافے کا اعلان کیا بلکہ ان کوششوں میں اب برطانیہ بھی شامل ہو چکا ہے۔

لندن اور واشنگٹن مل کر یمن میں پولیس کے ایک خصوصی یونٹ کے لئے مالی وسائل بھی مہیا کرنا چاہتے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن یہ تجویز بھی دے چکے ہیں کہ 28جنوری کو لندن میں بین الاقوامی افغانستان کانفرنس کے موقع پر یمن کے بارے میں بھی ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونی چاہیے۔

Karte Jemen Yemen Englisch

امریکی فوج کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے صنعاء میں یمنی صدر علی عبداللہ صالح سے حالیہ ملاقات میں القاعدہ کے خلاف عسکری حکمت عملی پر بات کی۔ جنرل پیٹریاس، جو مشرق وسطیٰ کے خطے کے لئے امریکی فوج کے کمانڈر بھی ہیں، صدر اوباما کے کئی پیغامات اور القاعدہ سے متعلق بہت سی تازہ ترین خفیہ معلومات لے کریمن گئے ہیں۔ اس ملاقات میں صدر صالح نے امریکی جنرل کو یقین دلایا کہ یمنی حکومت دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں امریکہ کی زیادہ سے زیادہ مدد کرتی رہے گی۔

واشنگٹن میں حکومتی ذرائع نے ہفتہ کی رات بتایا کہ امریکہ نے سال رواں کے دوران یمن کے تعاون سے وہاں القاعدہ کے تنظیمی ڈھانچوں اور ٹھکانوں کے خلاف بھر پور کارروائی کو اپنی سیاسی اور فوجی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق یمن کے بارے میں امریکی و برطانوی سوچ اور جنرل پیٹریاس کی صدر صالح سے ملاقات اسی ترجیحی فیصلے پر عمل درآمد کی ابتدا ہے۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM