1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی تھنک ٹینکوں کی رپورٹ پر پاکستان میں ملا جلا ردعمل

امریکی تھینک ٹینکوں اور جامعات کے ماہرین کی ایک رپورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی دھمکی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرے۔

ایشیا اسٹڈیز سینٹر، ہیریٹیج فاؤنڈیشن، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ سمیت درجن بھر دیگر اداروں کے ماہرین کی اس رپورٹ میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہ کرے تو اس کا نان نیٹو اتحادی کا درجہ چھ مہینے میں منسوخ کر دیا جائے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پہلے سال میں پاکستان کو اگر دہشت گردی کی معاونت کرنے والی ریاست قرار دیا جاتا ہے تو یہ ایک غیر دانشمدانہ قدم ہوگا۔ تا ہم اس نقطے کو طویل المعیاد پالیسی میں اوپشن کے طور پر رکھا جانا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق مراعات اور فوجی امداد سے پاکستان کے رویے کو بدلا نہیں جا سکا۔ تاہم ایک سخت موقف پاکستان کوامریکا کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔
پاکستان میں تجزیہ نگاروں نے اس رپورٹ پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔ جمہوریت نواز سیاسی مبصرین رپورٹ کے ان مندرجات سے اتفاق کرتے ہیں، جس میں جمہوری حکومت کی تعریفیں کی گئیں ہیں۔ تاہم وہ اس بات پر پریشان ہیں کہ دہشت گردی کے حوالے اگر حکومت نے مناسب اقدامات نہ کیے تو پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہوجائے گا۔

USA Pakistan George W. Bush und Pervez Musharraf in Washington (AP)


ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی اردو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر ڈاکڑ توصیف احمد نے اس حوالے سے کہا،’’میرے خیال میں یہ رپورٹ کیری لوگر بل کی طرح ہے، جس نے پاکستان کی جمہوری حکومت کو بچانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔ یہ کوشش کی گئی کہ حسین حقانی کو سبق سکھایا جائے لیکن اس کا کچھ بھی بگاڑا نہیں جا سکا۔ ہمارے پالیسی بنانے والوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ٹرمپ پہلے ہی مسلم ممالک کے خلاف ہیں۔ وہ دہشت گردی کے حوالے سے سخت موقف اختیار کریں گے۔ تو ہم پر بھی حافظ سعید، حقانی نیٹ ورک اور دیگر غیر ریاستی عناصر کے حوالے سے دباؤ آئے گا۔ اس کے علاوہ امریکا ڈاکڑ شکیل آفریدی کی رہائی کی کوشش بھی کرے گا۔ ملک کی سویلین حکومت نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ اس کی رہائی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ پر عسکری حلقے ناراضی کا اظہار کریں گے ۔ تاہم ان کے پاس پیچھے ہٹنے کے علاوہ کوئی اور راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ ہمیں یہ بات نظر میں رکھنی چاہیے کہ امریکا دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے مبینہ دہرے معیار سے بہت نا خوش ہے اور ہمیں اب اس معیار کو تبدیل کرنا چاہیے۔ ورنہ ہم بین الاقوامی طور پر تنہا ہوسکتے ہیں۔‘‘
تاہم سلامتی کے ملکی اداروں کے قریب سمجھے جانے والے مبصرین اس بات سے متفق نہیں کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو جائے گا۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل اعجاز اعوان نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ اگر امریکا نان نیٹو اتحادی اسٹیٹس پاکستان سے لے لیتا ہے تو ہمیں کونسا فرق پڑے گا۔ اسامہ کی ہلاکت، سلالہ پر حملہ اور چالیس کے قریب ڈرون حملے اس حقیقت کے باوجود ہوئے کہ ہمارے پاس یہ اسٹیٹس تھا۔ کولیشن سپورٹ فنڈ روکا گیا۔ ایف 16نہیں دیے گئے۔ اس کے علاوہ کئی اور ادائیگیاں بھی نہیں کی گئیں۔ اگر امریکا الگ راستہ اختیار کرتا ہے، تو ہمارے لیے بھی کئی راستے کھلے ہوئے ہیں۔‘‘
امریکی سخت موقف کے پاکستان پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا، ’’پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکا کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ میرا خیال ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام اور امریکا کی با عزت واپسی پاکستان کے ساتھ تعاون سے مشروط ہے۔ پاکستانی تعاون کی امریکا کو اس لیے بھی ضرورت پڑے گی کیونکہ اب روس داعش کے خطرے کے پیش نظر افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود اگر امریکا پاکستان کو تنہا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسلام آباد بیجنگ اور ماسکو کے مزید قریب ہوجائے گا۔‘‘
کیا ان کشیدہ حالات سے پاکستان کی آرمی پر اثرات نہیں پڑیں گے، جنرل اعوان نے کہا، ’’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہتھیاروں کی سب سے بہتر ٹیکنالوجی امریکا کے پاس ہے۔ تو اس حوالے سے تو پاکستان متاثر ہو سکتا ہے لیکن جس طرح کی جنگ ہمیں لڑنی پڑ سکتی ہے، اس کے حوالے سے ہم خود کفیل ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں اور ٹیکٹیکل نیو کلیئر ہتھیار بھی۔‘‘


مسلم لیگ نون کے رہنما مشاہد اللہ خان نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ امریکا کی طرف سے اس طرح کی باتیں ہو رہی ہیں۔ سب سے زیادہ دھماکے، خودکش حملے اور تخریبی کارروائیاں پاکستان میں ہوئیں۔ سب سے زیادہ ہمارے فوجی شہید ہوئے۔ سب سے زیادہ ہم نے قربانیاں دیں۔ ان حقائق کو تسلیم نہ کرنا افسوس ناک ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کی جانی چاہیے کیونکہ جمہوریت نے ہی ملک کو تباہی سے بچایا ہے۔ پاکستان مسلم دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے، جہاں بنیادی انسانی حقوق سمیت دیگر تمام حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔ ہماری حکومت کو گرانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے پھر بھی جمہوری رویہ ترک نہیں کیا۔ ماضی میں امریکا کی طرف سے آمروں کی حمایت نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ تو یہ بات خوش آئند ہے کہ اب جمہوریت کی اہمیت کو تسلیم کیا جارہا ہے۔‘‘