1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی تربیت یافتہ باغیوں کا نیا گروپ داعش سے لڑنے کے لیے تیار

شام میں فعال شدت پسند گروہ داعش سے لڑائی کے لیے امریکی تربیت یافتہ 75 جنگجو ترکی کے راستے شام میں داخل ہو گئے ہیں۔ یہ جنگجو جدید اسلحے سے بھی لیس ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اتوار کے دن بتایا ہے کہ شامی باغیوں کا ایک ایسا گروپ شام میں داخل ہو گیا ہے، جس نے امریکی عسکری ماہرین سے خصوصی تربیت حاصل کر رکھی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق یہ جنگجو داعش (اسلامک اسٹیٹ) کے خلاف امریکی عسکری کارروائی کے ایک پروگرام کے تحت لڑیں گے۔

DW.COM

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے، ’’ ترک دارالحکومت کے نواح میں ہی تربیت حاصل کرنے والے پچھتر نئے جنگجو جمعے اور ہفتے کی درمیانی رات حلب صوبے میں داخل ہوئے۔‘‘ امریکی حمایت یافتہ ڈویژن 30 کے ترجمان حسن مصطفیٰ نے بھی ان جنگجوؤں کے شام میں داخلے کی تصدیق کی ہے، ’’ترکی میں ان جنگوؤں کی دو ماہ تک تربیت کی گئی۔ وہ اب داعش کے خلاف لڑنے کے لیے مرکزی محاذوں پر پہنچ چکے ہیں۔ یہ تربیت یافتہ جنگجو اس وقت تل رفعت نامی قصبے میں پوزشنیں سنبھال چکے ہیں۔‘‘

حسن مصطفیٰ نے البتہ اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ یہ جنگجو اپنے ساتھ کس قسم کا اسلحہ لے کر گئے ہیں۔ تاہم رامی عبدالرحمان کے مطابق یہ جنگجو درجنوں گاڑیوں میں سوار ہو کر ایک کاروان کی شکل میں شام میں داخل ہوئے، جن کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ رامی کے بقول جب یہ جنگجو شام میں داخل ہو رہے تھے تو امریکی اتحادی فضائیہ ان کی مدد کر رہی تھی۔ یہ اتحادی فضائیہ شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے۔

ماضی میں بھی امریکی تربیت یافتہ ساٹھ جنگجو ڈویژن 30 نامی ملیشیا کے تحت شام میں داعش کے خلاف کارروائیوں کے لیے روانہ کیے جا چکے ہیں۔ تاہم جولائی میں النصرہ فرنٹ کے ایک حملے میں اس ڈویژن کو بری طرح شکست ہوئی تھی، جس دوران درجن بھر باغی مارے یا اغوا کر لیے گئے تھے۔ تب سے امریکا نے ان تربیت یافتہ جنگجوؤں کے لیے فضائی تعاون کا پروگرام شروع کر دیا تھا۔ امریکا نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر شامی فورسز نے ان فائٹرز کے خلاف کارروائی کی تو اتحادی فضائیہ ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی مجاز ہو گی۔

Symbolbild Luftangriffe der USA gegen IS

اتحادی فضائیہ شام اور عراق میں داعش کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے

دوسری طرف امریکی حکام کو یہ اندیشہ بھی لاحق ہے کہ روس مغرب نواز ایسے باغیوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جو صدر بشار الاسد کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ جہادیوں کے خلاف جاری لڑائی میں ایک وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے۔

امریکا کے اس منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر تین برس تک سالانہ 54 سو ایسے فائٹرز کو تربیت فراہم کی جانا تھی، جو شام میں جہادیوں کے خلاف لڑ سکیں۔ تاہم امریکی کانگریس میں یہ منصوبہ شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ری پبلکن سینیٹر کیلی آیوٹے کے بقول اتنی کم تعداد میں باغیوں کو تربیت فراہم کرنا ’ایک مذاق‘ کے مترداف ہے۔