1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

امریکی تحقیق کا غیر اخلاقی پہلو، 83 افراد کی ہلاکت

جنسی بیماریوں سے متعلق امریکی حکومت کے لیے تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے ماضی میں انسانوں پر بھی تجربات کیے تھے، جن کے نتیجے میں گوئٹے مالا کے 83 باشندے ہلاک ہو گئے تھے۔

default

یہ انکشاف امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے قائم کیے گئے ایک کمیشن نے کیا ہے۔ کمیشن کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ڈاکٹر کٹلر اور ان کے ساتھی محققین نے جنسی امراض کی روک تھام کے لیے گوئٹے مالا کے تقریباﹰ 1500 افراد پر مختلف تجربات کیے تھے اور ان افراد میں چند ذہنی مریض بھی شامل تھے۔

ان تجربات کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ آیا عام انسانوں کو ایک دوسرے سے لگنے والی جنسی بیماریوں (STD) کو پینسلین کی مدد سے روکا جا سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے گوئٹے مالا کی جسم فروش خواتین کو سوزاک یا آتشک جیسی جنسی بیماریوں سے متاثر کیا گیا اور بعد میں ان خواتین کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ فوجیوں یا جیل کے قیدیوں کے ساتھ غیر محفوظ جنسی تعلقات قائم کریں۔

Sir Alexander Fleming, Erfinder des Penicillin

پینسلین کے موجد سر الگزینڈر فلیمنگ

امریکی صدر کی طرف سے نومبر میں قائم کیے گئے کمیشن کے ایک رکن سٹیفن ہاؤزر کا کہنا ہے، ’’ہمیں یقین ہے کہ انسانوں کے جس گروپ پر یہ تجربات کیے گئے تھے، اس میں شامل کم از کم 83 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔‘‘

ہاؤزر کا کہنا ہے کہ دستاویزات کے مطابق سن 1946 سے 1948 تک، جن افراد پر یہ تجربے کیے گئے تھے، ان میں سے سات سو کا علاج بھی کیا گیا تھا۔

اس کمیشن کی تشکیل سے پہلے اکتوبر میں امریکی صدر نے ذاتی طور پر گوئٹے مالا کے صدر Alvaro Colom سے معذرت بھی کی تھی۔ تب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ماضی میں واشنگٹن حکومت کے لیے کیے گئے امریکی سائنسدانوں کے ان تجربات کو ’واضح طور پر غیر اخلاقی‘ قرار دیا تھا۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’امریکی حکومت کے سائنسدانوں کو یہ معلوم تھا کہ وہ اخلاقی معیار کو پس پشت رکھتے ہوئے ذہنی مریضوں کو دانستہ طور پر  آتشک جیسی انفیکشن کا مریض بنا رہے ہیں۔‘‘

اس کمیشن کی سربراہ ایمی گُٹمن نے اس واقعے کو تاریخی ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے، ’’متاثرین کی عزت کی جائے اور یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ایسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔‘‘

گُٹمن کا مزید کہنا تھا، ’’گوئٹے مالا میں ہونے والا یہ کوئی حادثہ نہیں ہے۔ اس میں ملوث افراد میں سے بعض نے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں یہ سب کچھ نہیں کر سکتے تھے۔‘‘

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM