1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی تجارتی لابی پاکستان کی مدد کے لئے کوشاں

امریکہ کی مرکزی تجارتی لابی نے سیلاب سے متاثرہ پاکستان کی مدد کے لئے اوباما انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ کانگریس سے اُس بل کو پاس کرایا جائے، جس کے تحت مخصوص پاکستانی مصنوعات کی ڈیوٹی فری درآمدات کی اجازت مل سکے۔

default

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بُش نے 2005 ء میں پاکستان میں آنے والے تباہ کُن زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے لئے پاکستان کو تجارتی مواقع فراہم کرنے کی غرض سے Reconstruction opportunity Zones بل کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے اس بل پر بات نہ ہو سکی۔

Präsident George W. Bush und seine Frau Laura Bush bei der Ankunft in Berlin Tegel

سابق امریکی صدر جارج بش

پاکستان کے حالیہ سیلاب، جسے اس صدی کی بدترین قدرتی آفت کہا جا رہا ہے، کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں کے تناظر میں امریکی چمبر آف کامرس کے صدر Thomas Donohue نے امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور امریکہ کے تجارتی شعبے کے ایک ترجمان Ron Kirk کو ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے کہا، ’ہمیں مل کر کوشش کرنی چاہئے کہ کانگریس میں تعطل کے شکار اُس بل کو جلد از جلد پاس کیا جائے، جس سے پاکستان کی مصنوعات کی ڈیوٹی فری درآمدات کا سلسلہ شروع ہوسکے‘۔

پاکستان کے حالیہ سیلاب میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 18 سو جايیں ضائع ہوئیں جبکہ 20 ملین افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ اور پاکستانی حکام نے اس تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ROZ پروگرام کا مقصد پاکستان اور جنگ سے تباہ حال اس کے پڑوسی ملک افغانستان کو ان کی مخصوص مقامی مصنوعات کی دونوں ملکوں میں ڈیوٹی فری رسائی کو ممکن بنانا ہے اور اس کے ذریعے افغانستان اور پاکستان میں روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہے۔ امریکی حلقوں میں اب اس طرف توجہ دی جا رہی ہے کہ غربت کا خاتمہ دراصل ان ملکوں میں اسلامی انتہا پسندی کے رجحانات کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان ویسے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے حلیف ہیں۔

امریکی چیمبر آف کامرس کے صدر Thomas Donohue کے خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مجوزہ ROZ پروگرام کے فوائد جغرافیائی سطح پر بھی مرتب ہوں گے۔

Barack Obama in Cairo

امریکی صدر باراک اوباما

پاکستان کا شمار امریکہ کو کاٹن کے کپڑے اور گھریلو مصنوعات برآمد کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان نے امریکہ کو کُل .23 بلین ڈالر کی بر آمدات کیں تھیں، جن میں سے .42 بلین ڈالر کی برآمدات میں کاٹن کے کپڑوے اور گھریلو مصنوعات شامل تھیں۔

2009 ء مبں ڈیمو کریٹس کی حکومت کی وجہ سے امریکی ایوان نمائندگان نے ایک ROZ بل پاس کیا تھا۔ تاہم امریکہ کے ریٹیلرز اور کپڑے درآمد کرنے والوں نے اس بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے قانون سے امریکی ٹیکسٹائل صنعت کو بہت کم مواقع ملیں گے۔

اس پر امریکی پالیسی ساز غور کر رہے ہیں اور کسی حتمی فیصلے کے ستمبر سے پہلے سامنے آنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس