1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی بینک گولڈ مین ساکس پر دھوکہ دہی کا الزام

امریکہ میں مالیاتی امور کے نگراں ادارے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے گولڈ مین ساکس بینک پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بینک کی انتظامیہ سرمایہ کاروں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی ترغیب دیتی رہی۔

default

حکام کے مطابق بینک کی انتظامیہ ان سرگرمیوں میں اُس وقت ملوث رہی، جب امریکہ میں جائیداد کا کاروبار بحران کی زد میں تھا۔

سیکیورٹی اور ایکسچینج کمیشن نے ایک دیوانی مقدمے میں عدالتی اپیل میں کہا کہ گولڈ مین ساکس بینک نے جائیداد کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے حصول کے لئے بعض اوقات غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کئے، جو فراڈ کے زمرے میں آتا ہے۔

Parkett der New York Stock Exchange, Wall Street

امریکی مالیاتی منڈیوں میں گولڈ مین ساکس کے حصص گر گئے

بینک انتظامیہ کی مالی ترغیبات کے باعث سرمایہ کاروں کے ایک ارب ڈالر ڈوب چکےہیں۔ امریکی حکام اس مالیاتی معاہدے میں بینک کو حاصل ہونے والے منافع کا تعین بھی کر رہا ہے۔ یہ مقدمہ نیویارک میں مین ہٹن کے علاقے میں قائم وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ امریکی قومی ادارے کی اپیل بائیس صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں گولڈ مین ساکس بینک کے ایک نائب صدر کی فرانسیسی اور انگریزی میں تحریر کردہ ای میل بھی شامل ہے۔

دوسری جانب گولڈ مین ساکس بینک کی انتظامیہ نے سیکیورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ سرمایہ کاری کے لئے کیا گیا معاہدہ قانونی تھی اور اِس میں مالی ضوابط کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ بینک نے سیکیورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے عدالتی مقدمے کا باقاعدہ سامنا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس بینک کے ایک نائب صدر  Fabrice Tourre کواس معاملے کا مرکزی کردار خیال کیا جا رہا ہے۔

سیکیورٹی اور ایکسچینج کمیشن نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ بینک پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نائب صدر کے خلاف فوجداری کارروائی کی بھی منظوری دے۔

امریکی وفاقی ادارے کی عدالتی چارہ جوئی کے اعلان کے بعد وہاں کی مالی منڈیوں میں انتشار کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ گولڈ مین ساکس کے حصص میں 13 فی صد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ماہرین کے خیال میں ان الزامات سے امریکی مالی منڈیاں براہ راست متاثر ہوئیں ہیں، جو سرمایہ کاروں میں عدم اعتماد کا باعث بھی ہو سکتا ہے۔ بازار حصص میں مندی کا رجحان غالب رہا۔

Flash-Galerie Geschichte Friedensbewegung Ostermarsch

امریکی صدر باراک اوباما

امریکی قومی ادارے کےیہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب اوباما انتظامیہ کے اقتصادی مشیر مالی اداروں کے معاملات پر کڑی نگرانی کی خاطر اصلاحاتی بل کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں۔ اس بل کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا ہے کہ اگر اِس میں مالی بے ضابطگیوں کو کنٹرول کرنے کے لئے سخت شرائط شامل نہ کی گئیں تو وہ بل کو اپنے صوابدیدی اختیارات کے تحت ویٹو کر دیں گے۔ اوباما عالمی سطح پر بھی مالی اداروں کے لئے سخت اصول و ضوابط کے خواہاں ہیں۔

رپورٹ:  ندیم گِل

ادارت:  عابد حسین

DW.COM