1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی بمباری سے آٹھ افغان پولیس اہلکار ہلاک

افغانستان میں امریکی فورسز کی فضائی بمباری کے نتیجے کم از کم آٹھ افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ افغان پولیس اہلکار اس وقت امریکی طیاروں کی بمباری کا نشانہ بنے، جب وہ طالبان کے خلاف ايک کارروائی ميں مصروف تھے۔

پیر کے روز حکام نے بتایا ہے کہ ’فرینڈلی فائر‘ کا یہ واقعہ افغانستان کے جنوبی صوبے ارزگان کے علاقے تَلی میں پیش آیا۔ اگست میں امریکی فوجیوں کو عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے زیادہ اختیارات دیے جانے کے بعد اس طرز کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

اس جنوبی صوبے کے ہائی وے پولیس کمانڈر رحیم اللہ خان کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’پہلے ایک امریکی فضائی حملے میں ایک پولیس اہلکار مارا گیا تھا۔ اس کے بعد جب دیگر پولیس اہلکار جائے واقعہ پر پہنچے تو امریکی طیاروں نے اسی مقام پر دوبارہ بمباری کر دی۔‘‘

مقامی حکام کے مطابق جب یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت مقامی فورسز طالبان کے خلاف ایک جھڑپ میں مصروف تھیں۔ نیٹو نے اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے تاہم کہا ہے کہ فضائی حملے میں افغان فورسز کے لیے خطرہ محسوس کیے جانے والے افراد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔

اپنے ایک بیان میں نیٹو کے ترجمان چارلس کلیولینڈ کا کہنا تھا، ’’ہمارے پاس مزید کوئی تفصيلات نہیں ہیں لیکن ہماری معلومات کے مطابق چند افراد افغان فورسز پر حملہ کر رہے تھے۔‘‘ امریکی اتحادیوں اور افغان فورسز کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس کیس میں ایک فوری خطرے کا جواب دیا گیا تھا۔‘‘

دوسری جانب ارزگان صوبائی کونسل کے سربراہ کریم خادم زئی نے کہا ہے، ’’پولیس اہلکار اس وقت امریکی بمباری کا نشانہ بنے، جب وہ چیک پوائنٹس کے اندر تھے۔‘‘ افغانستان میں نیٹو افواج کے حملوں میں عام شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکتیں ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کے خلاف ماضی میں شدید احتجاجی مظاہرے بھی کیے جا چکے ہیں اور حکومتی اہلکار بھی متعدد مرتبہ مغربی افواج کو ہدف تنقید بنا چکے ہیں۔ گزشتہ برس جولائی میں صوبہ لوگر کی ایک چیک پوائنٹ پر امریکی حملے کے نتیجے میں دس افغان فوجی مارے گئے تھے۔

رواں ماہ کے آغاز پر طالبان نے اس صوبے کے مرکزی مقام ترین کوٹ پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے کو افغان فورسز نے امریکی فضائیہ کی مدد سے ناکام بنا دیا تھا۔ صوبہ ارزگان افیون کی صنعت کا مرکز بھی ہے اور اس صوبے میں طالبان بھی کافی حد تک مضبوط ہیں۔

DW.COM