1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی بحری بیڑا جزیرہ نما کوریا کے لیے روانہ

شمالی کوریا کے تازہ میزائل تجربوں کے بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیونگ یانگ کو شدید نتائج کی دھمکی دی تھی۔ اب ٹرمپ نے ایک امریکی بحری بیڑا مغربی بحراکاہل کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔

امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ طیارہ بردار جنگی بحری بیڑے کو بھیجنے کا فیصلہ بحرالکاہل کے مغربی حصے میں کسی ممکنہ خطرے کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ یہاں پر امریکی فوج کی موجودگی کو بڑھایا جا سکے۔ امریکی نیوی کے کارل ونسن سٹرائیک گروپ نامی بحری بیڑے میں کئی دیگر جنگی بحری جہاز بھی ہیں۔ یہ بیڑا جزیرہ نما کوریا کے پانیوں کے قریب لنگر انداز ہو گا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق جاپانی وزیر اعظم شینزو آبے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور اس دوران اس سلسلے میں قریبی تعاون اور رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

USA Südkorea Marineübung

امریکی نیوی کے کارل ونسن سٹرائیک گروپ نامی بحری بیڑے میں کئی دیگر جنگی بحری جہاز بھی ہیں۔

شمالی کوریا پہلے کی طرح خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ ایک بیان میں ایک مرتبہ پھر واضح کیا گیا ہے کہ پیونگ یانگ کے جوہری اور میزائل منصوبوں کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک یعنی جنوبی کوریا اور جاپان میں بھی  گہری تشویش پائی جاتی ہے۔’’شمالی کوریا انتہائی لاپرواہی اور غیر ذمہ داری کے ساتھ اپنے جوہری اور میزائل منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے‘‘۔

شمالی کوریا عالمی سطح پر تنہائی اور پابندیوں کے باوجود اپنا جوہری ہتھیار سازی کا پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ 2006ء کے بعد سے اب تک یہ ملک پانچ جوہری تجربے کر چکا ہے، جن میں سے دو گزشتہ برس کیے گئے۔ شک ہے کہ یہ کمیونسٹ ریاست جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت والے ایسے میزائل کی تیاری میں بھی لگی ہوئی ہے، جو امریکا کو براہ راست نشانہ بنا سکتے ہوں۔

امریکا ماضی میں کئی مرتبہ جاپان اور جنوبی کوریا کو اپنے قریبی تعاون کی یقین دہانی کراتا رہا ہے۔ دوسری جانب ابھی حال میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر چین شمالی کوریا کے مسئلے کو حل کرنے کے قابل نہیں ہے تو امریکا تنہا ہی اقدامات کر سکتا ہے۔ چین شمالی کوریا کا حلیف ملک ہے۔