1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی بجٹ خسارے کی وجہ دفاعی بجٹ نہیں، گیٹس

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے عہدہ چھوڑنے سے قبل اپنے آخری انٹرویو میں کہا ہے کہ 1.4 ٹریلین ڈالرز کے امریکی بجٹ خسارے کی وجہ دفاعی اخراجات نہیں ہیں۔

رابرٹ گیٹس

رابرٹ گیٹس

رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ اگر دفاعی بجٹ میں 10 فیصد کمی کر بھی دی جائے، جو خطرناک بات ہوگی، تو بھی محض 50 بلین ڈالرز بچائے جا سکتے ہیں۔ گیٹس کے مطابق اس طرح بجٹ خسارے میں محض چار فیصد ہی کی کمی ہو سکتی ہے۔

رابرٹ گیٹس پینٹاگون کی سربراہی سے جمعہ یکم جولائی کو علیٰحدہ ہو رہے ہیں۔ عہدہ چھوڑنے سے قبل گیٹس نے اپنے اس آخری انٹرویو میں سال 2009ء سے دفاعی بجٹ میں کی جانے والی کٹوتیوں کا دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فیصلوں میں ان کے جانشین لیون پنیٹا بھی شریک تھے۔

لیون پنیٹا اس وقت سی آئی کے سربراہ ہیں اور یکم جولائی کو وہ رابرٹ گیٹس کی جگہ لیں گے، جبکہ سی آئی اے کے سربراہ کی ذمہ داریاں جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے پاس چلی جائیں گی۔

امریکی صدر باراک اوباما نے محکمہ دفاع سے یہ کہا ہے کہ وہ آئندہ 12 برسوں کے دوران اپنے اخراجات میں کم از کم 400 بلین ڈالرز کی بچت کرے

امریکی صدر باراک اوباما نے محکمہ دفاع سے یہ کہا ہے کہ وہ آئندہ 12 برسوں کے دوران اپنے اخراجات میں کم از کم 400 بلین ڈالرز کی بچت کرے

امریکی صدر باراک اوباما نے ملک کو درپیش 1.4 ٹریلین ڈالرز کے بجٹ خسارے اور 14 ٹریلین کے قرضوں میں کمی لانے کے لیے محکمہ دفاع سے یہ کہا ہے کہ وہ آئندہ 12 برسوں کے دوران اپنے اخراجات میں کم از کم 400 بلین ڈالرز کی بچت کرے۔

رابرٹ گیٹس نے شاید قبل از وقت ہی ان مسائل کا اندازہ لگا لیا تھا اور اسی لیے انہوں نے دو برس قبل ہی بچتی کوششوں کا آغاز کر دیا تھا۔ امید کی جا رہی ہے کہ اگلے پانچ برسوں کے دوران ان کی طرف سے کیے گئے اقدامات کی بدولت دفاعی اخراجات کی مد میں 154بلین یورو کی بچت ہو گی۔ اپنے انٹرویو میں رابرٹ گیٹس کا اس حوالے سے کہنا تھا:’’میں نے اس صورتحال کو پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے، تو پھر ہمیں زیادہ منظم اور بہتر ہونا پڑے گا۔‘‘

رابرٹ گیٹس نے بچتی منصوبوں کے حوالے سے زیادہ تعداد میں پروگرام ختم کرنے یا پینٹاگون کے بجٹ کو بچانے میں ناکامی کے حوالے سے خود پر اعتراض کرنے والوں کو وقت کی ضرورتوں سے غافل قرار دیا۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس