1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی اہلکار 6 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو آج لاہور کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں چھ روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ امریکی سفارت خانے کے اس ملازم کے خلاف دو پاکستانیوں کو قتل کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

default

قبل ازیں پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملزم ریمنڈ ڈیوس سے تفتیش مکمل کر کے چودہ دن کے اندر چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ ملزمان کے خلاف کارروائی پاکستانی قانون کے مطابق کی جائے گی اور اس ضمن میں کوئی ملکی یا بیرونی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

دوسری جانب امریکی دفتر خارجہ نے فائرنگ کے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ گزشتہ روز لاہور میں پیش آنے والے واقعے میں امریکی قونصل خانے کے ایک ملازم کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

بتایا جارہا ہے کہ بعد ازاں اس امریکی شہری کی مدد کے لیے آنے والے اس کے ساتھیوں کی گاڑی سے ٹکر کھاکر ایک اور موٹر سائیکل سوار شہری کی موت ہوگئی۔

، جس کے بعد پولیس نے امریکی سفارتخانے کی گاڑی اور ملازم دونوں کو تحویل میں لے لیا ۔ ڈیوس نے ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو بتایا کہ موٹر سائیکل سوار اُسے لوٹنا چاہتے تھے،’جیسے ہی چوروں نے مجھ پر پستول تانی میں نے اپنے دفاع میں فائرنگ کر دی۔‘

لاہور پولیس کے سربراہ اسلم ترین نے ملزم ڈیوس کے اس بیان کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی باشندے کے بقول وہ ٹریفک سگنل پر رکا ہوا تھا کہ اس نے دیکھا کہ دو موٹر سائیکل سوار اس کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ترین کے بقول اس دوران ایک نے جیسے ہی پستول نکالی تو امریکی نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اسلم ترین نے مزید بتایا کہ دونوں ہتھیار برآمد کر لیے گئے ہیں۔

Philip J. Crowley Sprecher US State Department

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی

امریکی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کی کوشش ہو گی کہ لاہور میں ہونے والے واقعے کی وجہ سے پاکستانی عوام میں امریکہ مخالف جذبات نہ بھڑکیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان فلپ کراؤلی کا کہنا تھا، ’ ہم یہ باورکرانا چاہتے ہیں کہ یہ المناک واقعہ ہمارے باہمی تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو گا اور ہم پاکستانی عوام کو بھرپور انداز میں یہ سمجھانے کی کوشش بھی کریں گے‘۔ فلپ کراؤلی نے اس واقعے کی کچھ تفصیلات بتائیں اور ساتھ ہی یہ تصدیق بھی کی کہ فائرنگ میں ملوث شخص لاہور میں امریکی قونصل خانے کا ملازم ہے۔

لاہور میں جائے وقوعہ پر موجود پولیس اہلکارعمر سعید نے بتایا کہ فائرنگ کے بعد امریکی قونصل خانے کی ایک اور گاڑی فوری طور پر وہاں مدد کے لیے پہنچی اور دونوں گاڑیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم وہاں پر جمع ہوجانے والے لوگوں اور پولیس کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا۔ اس واقعے کے بعد مزنگ کے علاقے میں کئی سو افراد نے مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM