1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی اور پاکستانی فوجی لیڈر شپ کی ملاقات

امریکی فوج کے صدر دفتر پینٹاگون کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی فوجی لیڈر شپ اگلے دنوں میں ملاقات کرنے والی ہے اور اس میں امکانی طور پر تناؤ سے عبارت تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

default

جنرل اشفاق پرویز کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین ایڈ مرل مائیک مولن ان دنوں یورپی ملک اسپین میں نیٹو کی فوجی نوعیت کی ایک کانفرنس میں شریک ہیں۔ مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کی ملٹری کمیٹی کا اجلاس ہسپانوی شہر اشبیلیہ میں آج سے شروع ہو گیا ہے۔ اس دو روزہ اجلاس کے دوران  ایڈ مرل مائیک مولن کے ترجمان کیپٹن جان کربی (John Kirby) کے مطابق پاکستان اور امریکی فوج کے عسکری لیڈر نیٹو کانفرنس میں شرکت کے دوران ملاقات کریں گے۔

ایڈمرل مولن کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ جنرل کیانی کے ساتھ ملاقات میں عسکریت پسندوں کے بڑھتے خطرے کو خاص طور پر زیر بحث لایا جائے گا۔ کربی کے مطابق بن لادن کی ہلاکت کے بعد  دونوں ملکوں کے درمیان تعاون میں بہتری دکھائی دے رہی ہے اور یہ حوصلہ افزاء ہے۔ کیپٹن کربی نے تعلقات کی موجودہ صورتحال کو پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین یقینی طور پر خواہش رکھتے ہبں کہ وقت کے ساتھ ساتھ تعلقات میں گہرائی پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ ہسپانوی شہر اشبیلیہ میں دونوں جرنیلوں کی یہ ایک اور ملاقات ہے۔

Mike Mullen NO FLASH

امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف چیئرمین ایڈ مرل مائیک مولن

امریکی فوج کے صدر دفتر پینٹا گون کے اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کی فوجی لیڈر شپ اگلے چند دنوں میں ملاقات کرنے والی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں پیدا شدہ سرد مہری میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ پاک امریکہ تعلقات میں سرد مہری اور تناؤ دو مئی کے اس خفیہ امریکی فوجی ایکشن کے بعد سے پیدا ہوا ہے، جس میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا تھا۔

تعلقات میں پیدا شدہ سرمہری کے بعد ہی واشنگٹن نے پاکستان کی امداد میں کٹوتی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس دوران بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع لیون پنیٹا کا بیان بھی خاصا سخت قرار دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان حقانی گروپ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ کا خیال ہے کہ چند روز قبل کابل میں امریکی سفارت خانے اور نیٹو کے ہیڈکوارٹرز  پر حملے میں حقانی گروپ ملوث ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  افسر اعوان

 

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات