1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی اور پاکستانی فوجی قیادت کے عمان میں مذاکرات

امریکہ اور پاکستان کی اعلیٰ فوجی قیادت نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں تعاون اور اسے مربوط بنانے کے حوالے سے تبادلہِ خیال کیا ہے۔

default

افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

امریکی افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مولن اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بدھ کے روز مسقط میں ایک اہم ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ، بالخصوص افغانستان سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان عسکریت پسندوں کے خلای فوجی کارروائی کومربوط اور بہتر بنانے کے حوالے سے مذاکرات میں حصّہ لیا۔
Mike Mullen

کیا امریکی ایڈمرل مائک مولن پاکستانی عسکری قیادت کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کے لیے قائل کر پائیں گے؟

امریکی انتظامیہ پاکستانی حکومت اور فوج سے شمالی وزیرستان میں عسکریت پسند حقّانی گروپ کے خلاف فوجی آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے تاہم پاکستانی حکومت نے تا حال وہاں فوجی کارروائی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

امریکی فوج کے ایک اہلکار نے امریکی اور پاکستانی فوجی قیادت کے درمیان مسقط میں ہونے والی بات چیت کو مفید اور مثبت قرار دیا ہے۔

افواجِ پاکستان کے مطابق مذاکرات کا مقصد علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہِ خیال کرنا اور فوجی کارروائیوں کو مزید مربوط بنانے کے طریقے ڈھونڈنا تھا۔

Madrassa Jamia

دو ہزار پانچ میں حقّانی گروپ کے اس مدرسے سے پاکستانی حکّام نے القاعدہ کے دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا

واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ پاکستانی حکومت اور بالخصوص پاکستان کے انٹیلجنس اداروں کے اہلکاروں کے حقّانی گروپ کے ساتھ روابط رکھنے کا الزام عائد کرتی رہی ہے اور امریکی مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اسی باعث شمالی وزیرستان میں آپریشن سے گریز کر رہا ہے۔

امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کی پاکستان میں حراست اور اس حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری سیاسی اور سفارتی کشیدگی کے تناظر میں مسقط میں ہونے والے ان مذاکرات کو ’معمول‘ کے مطابق تو کہا جا سکتا ہے تاہم مبصرین اس کی اہمیت دفاعی اور عسکری امور کے علاوہ سیاسی بھی بتا رہے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄خبر رساں ادارے

دارت:عدنان اسحاق

DW.COM