1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی انتخابات کے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ممکنہ اثرات

پاکستان کے سفارتی حلقے اس بات پر غور و فکر کر رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کی صورت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کس طرح متاثر ہو گی اور اگر جیت کا سہرا ہلیری کے سر پر سجا تو اسلام آباد کو کون سا راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتخابات کا پاکستان کی خارجہ پالیسی پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے اور اسلام آباد کو اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان انتخابات پر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے حوالے سے قائد اعظم یونیورسٹی کے شعبہء بین الاقوامی تعلقات سے وابستہ ڈاکڑ فرحان حنیف صدیقی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’امریکا Asia Pivot کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے، جس کے تحت وہ چین کو خطے میں کمزور کرنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن نے اس مقصد کے لیے بھارت، آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ویتنام اور خطے کے دوسرے ممالک کو بھی چین کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چاہے اقتدار میں ہلیری کلنٹن آئیں یا پھر ٹرمپ دونوں کو اس پالیسی پر عمل کرنا پڑے گا۔ کیونکہ پاکستان چین کا قریبی اتحادی ہے اور بیجنگ یہاں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ آنے والی امریکی انتظامیہ پاکستان پر دباو ڈالے گی کہ اسلام آباد چین سے زیادہ تعلقات نہ بڑھائے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ہلیری کلنٹن اس دباؤ کے لئے سفارتی تعلقات استعمال کر سکتی ہیں،’’وہ ایک تجربہ کار سیاست دان ہیں اور انہیں معلوم ہے کہ پاکستان کی خطے میں کیا اہمیت ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے امریکہ کو جو مدد درکار ہیں وہ پاکستان ہی فراہم کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آباد افغان امن کے لیے اہم کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ تو ہلیری کوئی ایسی پالیسی نہیں اپنائیں گی، جس پر پاکستان چراغ پا ہو جائے۔ وہ دباؤ کے غیر محسوس طریقے استعمال کریں گی جب کہ ٹرمپ ہر معاملے میں منہ پھٹ ہیں۔ لہذا قوی امکان ہے کہ وہ ایسی پالیسی اپنائیں، جس سے پاکستان اور امریکا کے درمیان فاصلے مزید بڑھ جائیں۔ ممکنہ طور پر وہ پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے کئی شرائط عائد کر سکتے ہیں۔‘‘


نیشنل یونیورسٹی فار سائنس کے بین الاقوامی ادارہ برائے امن و استحکام سے وابستہ ڈاکڑ بکر نجم الدین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’میں ٹرمپ کو ایک ایسا سیاست دان سمجھتا ہوں جو امریکا کے مالیاتی امور کے حوالے سے کافی فکر مند ہے۔ جو ملک بھی امریکا کے لئے پیسہ کمانے کا باعث بنے گا، ٹرمپ اس کے دوست ہوں گے۔ ٹرمپ پہلے ہی کئی ممالک کی امداد بند کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ مقامی معیشت کو سہارا دینے کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور میکسیکو کے خلاف بول کر امریکی مزدوروں کی حمایت حاصل کر رہے ہیں۔ لہذا اس بات کا امکان ہے کہ ٹرمپ پاکستان کی امداد روک سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے مسئلے پر بھی وہ پاکستان کے خلاف سخت موقف اختیار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ بھارت امریکی سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کر کے امریکی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے، اس لئے ٹرمپ کا فطری رجحان نئی دہلی کی طرف ہوگا۔ اس جھکاو سے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات سرد ہو سکتے ہیں۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ چین کو امریکا کا حریف سمجھتا ہے اور اس کے لئے مشکلات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے لئے وہ بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرے گا، جس سے خطے میں پاکستان اور چین دونوں امریکا کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ تو ٹرمپ کی پالیسی کی وجہ سے خطے میں نئی سیاسی صف بندیوں میں تیزی آسکتی ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’ٹرمپ منافق آدمی نہیں ہے۔ وہ کھل کر بولتا ہے۔ ہلیری کلنٹن بھی پاکستان کے ساتھ وہی کچھ کرے گی جو ٹرمپ کرنا چاہتا ہے لیکن ہلیری یہ کام ذرا شائستگی سے کرے گی، سفارت کاری اور دوسرے طریقے اپنائے گی جب کہ ٹرمپ بش کی طرح دھمکیاں دے سکتا ہے اوردھونس کے ذریعے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔‘‘