1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی انتخابات میں ’روسی مداخلت‘ کا جواب دیں گے، اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ امریکی صدارتی الیکشن میں روس کی طرف سے کی جانے والی مبینہ مداخلت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ روسی حکومت اِس امریکی الزام کی واشگاف انداز میں تردید کرتی ہے۔

 رواں برس کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے امریکی صدر باراک اوباما نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا کہ جب بھی کسی غیر ملکی حکومت کی موجوگی امریکی انتخابی عمل میں محسوس کی گئی تو اُمریکی قوم نے اُس کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی ایسا ہی کیا جائے گا۔

اس وقت امریکی صدارتی انتخابات میں روسی صدر کے اثرانداز ہونے کا معاملہ خاصا گرم ہے۔ امریکی کانگریس کے ری پبلکن اور ڈیموکریٹک اراکین نے ان مبینہ الزامات کے حوالے سے پارلیمانی تفتیش کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ کانگریس کی جانب سے حتمی رائے اُس وقت قائم ہو گی جب پارلیمانی تفتیشی کمیٹی تمام ممکنہ پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔

الیکشن میں روسی مداخلت کے مبینہ الزامات کی روسی حکومت نے واضح انداز میں تردید کی ہے۔ روسی مداخلت کے مشتبہ معاملے کے حوالے سے امریکی صدر نے نیشنل پبلک ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا  کہ بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کہیں یہ مداخلت کھلے انداز میں کی گئی اور کہیں اِس کا ڈھکا چھپا انداز ہے۔ اوباما نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر روسی صدر میرے جذبات سے پوری طرح آگاہ ہیں کیونکہ میں نے اُن سے براہ راست ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

Frankfurt Reaktionen auf der Börse US Wahlen 2016 (Getty Images/T. Lohnes)

اوباما نے کے مطابق غیر ملکی حکومت کی موجوگی امریکی انتخابی عمل میں محسوس کی گئی تو اُمریکی قوم نے اُس کے خلاف ردعمل ظاہر کیا ہے

امریکی صدر کی رہائش گاہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ بظاہر یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے کہ روسی ہیکنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کو قوی کیا ہے اور اِس کے مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم میں کمزوری کا عنصر نمایاں کیا گیا۔ یہ امر اہم ہے کہ الیکشن جیتنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے ان الزامات کو لغو قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ صرف روس کے سینیئر ترین حکومتی اہلکار ہی ایسا کرنے کے احکامات جاری کرنے کے مجاز ہیں۔ ارنسٹ کی مراد الیکشن کے دوران محسوس کی جانے والی ہیکنگ ہے۔ انہوں نے اکتوبر میں جاری کی گئی امریکی خفیہ رپورٹ کی بنیاد پر یہ بات کی ہے۔

 اس تناظر میں امریکی صدر کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈز نے واضح انداز میں کہا کہ امریکی الیکشن میں ہیکنگ سے کی گئی مداخلت کی ذمہ داری روسی صدر ولادیمیر پوٹن پر براہ راست عائد ہوتی ہے۔ رہوڈز کے مطابق پوٹن کے علم میں لائے بغیر ایسی کوئی کارروائی ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔