1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی امداد کے انجماد سے روابط متاثر ہوں گے، پاکستان

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس کے ایک پینل کی جانب سے پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی امداد منجمد کرنے کے فیصلے سے دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچے گا۔

default

امریکی کانگریس کا ایک اجلاس، فائل فوٹو

امریکی کانگریس کے ایک پینل کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے 70 کروڑ ڈالر کی امداد اس وقت تک بحال نہ کی جائے جب تک وہ خطے میں دیسی ساختہ بموں کے عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی نہ کرا دے۔ امریکی امداد منجمد کیے جانے کا یہ فیصلہ اس دفاعی بل کا حصہ ہے جو رواں ہفتے منظور کیے جانے کی توقع ہے۔

911 HG Bin Laden

اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد پاک امریکہ تعلقات کشیدہ ہو گئے

پاکستان میں انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ اور معروف تجزیہ نگار مسعود شریف کا کہنا ہے کہ امریکی ایوان بالا اور ایوان نمائندگان کے ارکان پر مشتمل اس پینل کا یہ اقدام دونوں ملکوں کے تعلقات میں بد اعتمادی بڑھانے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ الزامات کا ایک ایسا سلسلہ ہے، جو صرف پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ہے۔

دیسی ساختہ بموں سے وہاں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں؟ اس کے مقابلے میں پاکستان آرمی کے 24 جوان انہوں (نیٹو) نے خود ہماری پوسٹ پر مارے۔ اتنی تو ان کی دیسی ساختہ بموں سے ہلاکتیں کئی مہینوں میں بھی نہیں ہوئی ہوں گی۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جب آپ جنگ لڑ رہے ہیں تو آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس سے ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں۔ اس جنگ میں پاکستانی فوج کی جو ہلاکتیں ہوئی ہیں اس میں لیفٹیننٹ جنرل سے لے کر سپاہی تک شہید ہوئے ہیں۔‘‘

Nato Beschuss Pakistan

نیٹو کے ایک حالیہ حملے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی فوجیوں میں سے دو کی لاشوں کو تدفین کے لیے لے جایا جا رہا ہے

مسعود شریف نے کہا کہ خود پاکستانی فوج کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دیسی ساختہ بموں سے خاصا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ لہٰذا ایسے میں ان بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی اسمگلنگ کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے رکن ایاز امیر کا کہنا ہے کہ بظاہر سات سو ملین ڈالر کی رقم اتنی زیادہ نہیں لیکن سفارتی تعلقات میں اس کی بندش علامتی طور پر دونوں ممالک کے لیے اچھے اثرات کی حامل نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اس اقدام سے پاکستان میں اس سوچ کو تقویت ملے گی، خاص طور پر جو پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ ہے، کہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات خراب ہو رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ یو ایس کانگریس ایسا کر کے دانشمندی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی ضرورت بھی ہے، افغانستان کے مسئلے کا آخر کار جو حل ہو یا امریکی موجودگی کا خاطر خواہ نتیجہ نکلے، جس میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے مزید بگاڑ بھی پیدا ہو گا۔‘‘

Angriff Nato-Hubschrauber in Pakistan

نیٹو حملے کے بعد پاکستان میں وسیع تر مظاہرے بھی کیے گئے

امریکہ 2001ء سے لے کر اب تک سکیورٹی اور اقتصادی امداد کی مد میں 20 ارب ڈالر پاکستان کو دے چکا ہے۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو نقصان پہنچا ہے، وہ اس امداد کی مالیت سے کہیں زیادہ ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس سال مئی میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں امریکی فوجی کارروائی کے نتیجے میں ہلاکت اور پھر 26 نومبر کو نیٹو ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے 24 پاکستانیوں کی ہلاکت نے پاک امریکہ تعلقات پر جو اثرات مرتب کیے ہیں، وہ اتنی آسانی سے زائل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM