1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی امداد کی بندش، فی الحال پاکستان کو کوئی خوف نہیں

مبصرین کے مطابق امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد بند کیے جانے سے پاکستان کو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر امریکا نے قرضے واپس مانگ لیے تو پاکستان کے پاؤں دلدل میں ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ اسلام آباد حکومت عسکریت پسندو‌ں کے خلاف کافی اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کی فوجی امداد بند کی جا رہی ہے۔ رواں سال کے پہلے ہی دن صدر ٹرمپ کا ایک ٹویٹ میں کہنا تھا، ’’یہ ان دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کر رہے ہیں، جن کو ہم افغانستان میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ بس، ایسا بہت ہو گیا۔‘‘

پاکستان نے نیٹو سپلائی روٹ بند کیا تو امریکا کیا کرے گا؟

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس وقت فوجی ساز و سامان اور فنڈنگ کی مد میں پاکستان کے لیے دو ارب ڈالر کی رقوم خطرے میں ہیں۔ ایک اعلیٰ پاکستانی اہلکار کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’امریکی امداد گزشتہ چند برسوں سے واضح طور پر کم ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود معیشت میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ اب بیجنگ صرف ایک فون کال کے فاصلے پر ہے۔‘‘

اسلام آباد کے اس سفارت کار کا کہنا تھا کہ قلیل المدتی بنیادوں پر اس امریکی فیصلے کا اثر ’معمولی‘ ہوگا، ’’بین الاقومی امداد ملک کی معیشت کے لحاظ سے بہت زیادہ نہیں ہے، اس کا مطلب ہے کہ دباؤ محدود ہے۔‘‘

دہشتگردی کے خلاف جنگ: جاپان کی طرف سے پاکستان کی تعریف

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ حفیظ پاشا کے مطابق افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد سے امریکی امداد میں اضافہ ہوتا رہا اور سب سے زیادہ سالانہ امداد سن دو ہزار دس میں تین سے چار بلین ڈالر دی گئی، ’’اس کے بعد سے امداد میں واضح کمی ہوئی ہے۔ گزشتہ برس یہ صرف سات سو پچاس ملین ڈالر تھی۔‘‘ ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کے لحاظ سے یہ بہت کم ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ ان کے پاس پاکستان کے خلاف کئی دوسرے کارڈز بھی موجود ہیں، مثال کے طور پر آئی ایم ایف کے ذریعے قرضوں کی واپسی کا مطالبہ۔

ورلڈ بینک کے ماہر اقتصادیات محمد وحید کہتے ہیں کہ فی الحال پاکستان کی معیشت مستحکم ہے اور ترقی کر رہی ہے لیکن اس کی فنڈنگ ورلڈ بینک، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی کر رہے ہیں۔ یہ تمام وہ ادارے ہیں، جنہیں واشنگٹن حکومت بڑی مقدار میں قرضے فراہم کرتی ہے۔ محمد وحید کا کہنا تھا، ’’پاکستان کو بنیادی ڈھانچے کے مسائل، مثال کے طور پر کم انکم ٹیکس اور تجارتی خسارے جیسے مسائل کا سامنا ہے اور انہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہوئے ہیں اور اگر پاکستان اسی رفتار سے ترقی کرنا چاہتا ہے تو اسے مزید قرضوں کی ضرورت ہو گی۔ پاکستانی تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان کے خلاف مزید اقدامات کا اشارہ دے چکا ہے، ’’امریکا اپنا اثر عالمی سلامتی کونسل سمیت آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک میں بھی استعمال کر سکتا ہے۔‘‘

دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کی چین کے ساتھ دوستی دیرینہ ہے اور وہ دن بہ دن مضبوط بھی ہوتی جا رہی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا، ’’اگر امریکا دوبارہ دھمکیوں اور الزامات کا سلسلہ شروع کرتا ہے، تو ہمارے پاس کئی دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔‘‘ ان کا اشارہ چین کی طرف تھا، جس نے امریکی صدر کی طرف سے الزامات کے فوراﹰ بعد پاکستان کے حق میں بیانات جاری کیے تھے۔

چین پاکستان میں پہلے ہی تقریباﹰ ساٹھ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ چین پاکستان میں مزید کتنی سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہے؟ تاہم مشاہد حسین سید کہتے ہیں کہ امداد کی معطلی امریکا کا ایک ’ناکام فارمولا‘ ہے۔

DW.COM