1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکی اقدار اور ایمان کے مابین توازن رکھنے والے اسکاؤٹس

مسلم بوائے اسکاؤٹس امریکی معاشرے میں کامیاب ہونے کی کوشش میں ہیں اور ان کا گروپ امریکا میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلم مخالف بیان بازی کا بہترین جواب خیال کیا جاتا ہے۔

امریکا میں سرگرم مسلم بوائے اسکاؤٹس کے گروپ 114 نے ریاست پینسلوینیا کے مقام گیٹس برگ کا دورہ حال ہی میں مکمل کیا ہے۔ امریکا کی تاریخی خانہ جنگی کا سب سے مشہور مقام گیٹس برگ ہی ہے۔ گروپ 114 دیگر اسکاؤٹس گروپوں کی طرح ہے لیکن اس میں ایک چیز مختلف ہے اور وہ یہ کہ اس گروپ کے تمام اراکین مسلمان ہیں۔

دیگر اسکاؤٹس کی طرح 114 گروپ کی بنیاد بھی ورجینیا کے فیئر فیکس شہر میں رکھی گئی تھی۔ سن 2012 میں تشکیل پانے والے اس گروپ کا موٹو ہے، ’’اپنی غیرت کے نام پر، ہم بہترین کوششیں کریں گے۔‘‘ پینتیس اسکاؤٹس کے اس گروپ کے سربراہ عبدالرشید عبداللہ کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’گروپ کا مقصد مسلم کمیونٹی کی مدد کرنا بھی ہے اور بچوں کے بہتر شہری بننے میں مدد فراہم کرنا بھی۔‘‘ اس گروپ کے زیادہ تر اراکین عرب نژاد امریکی شہری ہیں۔

سن 1990 میں اسلام قبول کرنے والے تینتالیس سالہ ایک امریکی کا کہنا تھا، ’’یہ سچ ہے کہ مسلم بوائے اسکاؤٹس عام نہیں ہیں لیکن ہمارے جیسے اور بھی بہت زیادہ ہیں۔ ہمیں بوائے اسکاؤٹس سے بہت زیادہ رہنمائی اور مدد ملی ہے لیکن عام اسکاؤٹس اور مسلم اسکاؤٹس میں صرف ایک فرق ہے اور وہ عبادت کرنے کا انداز ہے۔‘‘

عبدالرشید کے مطابق ان اسکاؤٹس کو گیٹس برگ لانے کا مقصد صرف یہ نہیں کہ ان کو امریکی تاریخ کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے بلکہ یہ بتانا بھی ہے کہ امریکی تاریخ اب ان کی بھی تاریخ ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان تک وہ امریکی اقدار منتقل کی جائیں جن کے لیے ابراہم لِنکن نے جیسے رہنماؤں نے جدو جہد کی تھی۔‘‘

عبدالرشید کا ارب پتی ری پبلیکن امیدوار ٹرمپ کے مسلم مخالف بیانات کے بارے میں کہنا تھا، ’’یہ لڑکے امریکا میں پیدا ہوئے ہیں اور یہ امریکی شہری ہیں اور یہ شناخت ہم سے واپس نہیں لی جا سکتی۔ امریکا کا دشمن وہ ہے، جو اس طرح کے بیانات دیتا ہے۔‘‘ عبدالرشید کا اشارہ ٹرمپ کے اس بیان کی طرف تھا، جس میں انہوں نے مسلمانوں کے ملک میں داخلے پر پابندی کی بات کی تھی۔

مسلم اسکاؤٹس کے اِس گروپ نے تاریخ کے میوزیم کا دورہ مکمل کرنے کے بعد بس ہی میں لنچ کیا کیونکہ اُن کی بس میں فاسٹ فوڈ کا پہلے سے ہی انتظام کیا گیا تھا۔

واپسی پر نماز کی ادائیگی کے لیے اسکاؤٹس کی بس کو ہائے وے پر ایک وقفہ کرنا پڑا تھا۔ اس اسکاؤٹ گروپ کے ساتھ الجزائر کی ایک خاتون شالینین بھی اپنے دو بچوں کے ہمراہ سفر کر رہی ہے۔ اس خاتون کے مطابق وہ اس وجہ سے رضاکارانہ طور پر اس گروپ کے ساتھ آئی ہے کیوں کہ یہ بہت سے کام رضاکارانہ طور پر کرتا ہے۔

سن 1994 سے امریکا میں رہنے والی اس خاتون کا کہنا تھا کہ گھر پر کیبل بند کروا دی گئی ہے تاکہ بچے مسلم مخالف مواد نہ سن سکیں اور نہ دیکھ سکیں، ’’مجھے امید ہے کہ میرے بچے خود کو مجھ سے زیادہ امریکی محسوس کریں گے۔‘‘