1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکی افواج کا انخلاء ، افغان صدر کا خیر مقدم

افغان صدر نے امریکی فوج کے انخلاء کے منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان کے مسئلے کے ممکنہ حل کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے۔

default

اتوار کو ایک امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ’’رواں اور آئندہ برس امریکی افواج کے انخلاء کا پروگرام اس بات کی علامت ہے کہ افغان فورسز اپنی سرحدوں کی حفاظت اور سلامتی کی ذمہ داریاں اٹھائیں گی۔ ہم اس فیصلے سے خوش ہیں۔‘‘

امریکی ٹیلی وژن سی این این کے ایک میزبان فرید زکریا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ جہاں تک فوجیوں کی تعداد کا تعلق ہے، ہماری اس بارے میں کوئی رائے نہیں ہے۔‘‘

باراک اوباما کے اعلان کے مطابق رواں برس 10 ہزار جبکہ آئندہ برس گرمیوں تک 33 ہزار امریکی فوجیوں کا افغانستان سے انخلاء مکمل کر لیا جائے گا۔ امریکی افواج کے چند اعلیٰ اہلکار اس قدر جلد انخلاء کو ’جارحانہ‘ عمل قرار دے چکے ہیں۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ایڈمرل مائیک مولن اور افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈرجنرل ڈیوڈ پیٹریاس نے کانگریس میں کہا ہے کہ باراک اوباما کا افواج کے انخلاء کا فیصلہ کئی خطروں سے جڑا ہوا ہے لیکن وہ ایک عشرے سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اس حکمت عملی کی حمایت کریں گے۔

NO FLASH Karzai und Raza in Pakistan

افغان صدر کے مطابق افغانستان کے مسئلے کے ممکنہ حل کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے

امریکی ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز کا سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ افواج کے انخلاء کا معاملہ سیاسی شکل اختیارکرتا جا رہا ہے، جس سے طالبان فائدہ اٹھاتے ہوئے دوبارہ افغان سر زمین پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا سکتے ہیں۔

راجرز کے مطابق افواج کی واپسی کی تاریخ بہت جلدی میں دی گئی ہے، حالانکہ افغانستان کے حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ سب کچھ سن 2012 میں شروع ہونے والی صدارتی بحث کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ ملک کے کئی حصوں میں سکیورٹی کی صورتحال اور لوگوں کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب اگر اعداد وشمار کو دیکھا جائے تو گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ حملے اور ہلاکتیں سن دو ہزار دس اور گیارہ میں ہوئی ہیں۔

افغان صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں اس وقت تک قیام امن ممکن نہیں ہے جب تک امریکہ، پاکستان اور دوسرے اتحادی اپنے اختیارات بروئے کار نہیں لاتے۔

افغان صدر نے کہا، ’’کسی بھی فوری حل کے لیے پاکستان کی مدد انتہائی اہم ہے۔‘‘ افغان اور امریکی حکام کے مطابق پاکستان کے افغانستان کے کئی طالبان گروپوں کے ساتھ نہ صرف تعلقات ہیں بلکہ اُس کا ان گروپوں پر کافی اثر و رسوخ بھی ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM