1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کے مقابلے میں چین پر پاکستان کا زیادہ انحصار

حال ہی میں بیجنگ کے ان الزامات کے جواب میں کہ چینی صوبے سنکیانگ میں ہونے والے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث افراد نے پاکستانی سرزمین پر تربیت حاصل کی، پاکستان نے انتہائی سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔

default

ان الزامات کے سامنے آنے کے فوراً بعد پاکستان کی طاقتور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کا اچانک بیجنگ کا دورہ اس حوالے سے پاکستانی حکومت اور فوجی قیادت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دفاعی مبصرین کے مطابق اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور چین پر پاکستان کا انحصار کس قدر زیادہ ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق چین کے مغربی صوبے سنکیانگ میں چند روز قبل دہشت گردانہ واقعات میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Pakistan Geheimdienst ISI

آئی ایس آئی کے سربراہ پاکستانی وزیراعظم کے ہمراہ (فائل فوٹو)

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے اس دورے سے متعلق خبروں کو رَد کیا ہے تاہم مغربی سفارتکاروں اور پاکستانی مبصرین کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل شجاع پاشا کے اس دورے میں اس دہشت گردانہ واقعے کو مرکزی حیثیت حاصل رہے گی۔

پاک چین انسٹیٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین سید نے منگل کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی ہمسائے خصوصاً قریبی اتحادی چین کے خلاف کسی بھی صورت استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ’’پاکستان اور چین کے درمیان انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور ہم اس مسئلے پر چین سے مکمل تعاون کر رہے ہیں۔‘‘

بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان واقعات کے فوراً بعد پاشا کا چین کا دورہ اسلام آباد حکومت کی ترجیحات کو واضح کرتا ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے بارہا مطالبات کے باوجود پاکستان نے القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے اس مستعدی کا مظاہرہ کبھی نہیں کیا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات رواں برس مئی سے کشیدہ ہیں، جب امریکی نیول سیِلز نے ایک خفیہ آپریشن کر کے پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا تھا۔ امریکہ میں مبصرین کی ایک بڑی تعداد پاکستان کی مشہور فوجی تربیت گاہ سے چند سو میٹر کی دوری پر اسامہ بن لادن کی محفوظ پناہ گاہ کی موجودگی پر سوالات اٹھاتی آ رہی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM