1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کے متعدد علاقوں میں برفانی طوفان سے نظام زندگی مفلوج

امریکہ کے شمال مشرقی علاقوں میں برفانی طوفان نے نظام زندگی درہم برہم کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ بتائی جا رہی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں بجلی بھی دستیاب نہیں۔

default

بعض علاقوں میں ویک اینڈ پر دو فٹ کے قریب برف پڑی ہے۔ مغربی میساچوسٹس سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہے، جہاں اتوار کی ص‍بح تک ستائیس انچ تک برف پڑی ہے جبکہ اس کے قریبی علاقے ونڈسر میں چھبیس انچ برف پڑی۔

طوفان کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہو چکی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں روڈ، ریل نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ پروازوں کے شیڈول بھی متاثر ہیں۔ ہفتے کو کنیکٹیکٹ کے علاقے ہارفورڈ میں جیٹ بلیو کے ایک طیارے میں مسافر سات گھنٹے سے زائد دورانیے تک پھنسے رہے۔

برفانی طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کے بندش سے تیس لاکھ سے زائد گھرانے اور کاروباری مراکز متاثرہ ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اتوار کو برفباری رکنے کے باوجود میری لینڈ اور میئن تک کے علاقوں میں بجلی کی بحالی میں کئی دِن لگ جائیں گے۔

نیوجرسی، کنیکٹیکٹ، میساچوسٹس کے پورے علاقوں جبکہ ریاست نیویارک کے بعض علاقوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا جا چکا ہے۔

صرف کنیکٹیکٹ میں ہی آٹھ لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں۔ میساچوسٹس میں یہ تعداد چھ لاکھ ستّر ہزار سے زائد ہے جبکہ نیوجرسی میں بھی چھ لاکھ افراد بجلی سے محروم ہیں۔ گورنر کرِس کرسٹی کے گھر پر بھی بجلی نہیں ہے۔

Bilder des Tages 21.12.2006, Schneesturm in Denver

متاثرہ علاقوں میں کسی بھی ذریعے سے سفر کرنا بھی مشکل بنا ہوا ہے

پینسلوانیا، نیوہیمپشائر، نیویارک، میئن، میری لینڈ اور فیرمونٹ کے بعض علاقے بھی بجلی سے محروم ہیں۔

کنیکٹیکٹ کے گورنر ڈانیل پی مالوئے کا کہنا ہے: ’’یہ حالات سمندری طوفان آئرن کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہے ہیں۔ خدشہ ہے کہ طویل دورانیے تک بجلی غائب رہے گی۔‘‘

اس ریاست میں کم از کم چار ہسپتال بجلی کے لیے جنریٹرز پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔ ریاست میں مختلف مقامات پر امدادی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ مالوئے نے فائربریگیڈ کے رضاکاروں سے کہا ہے کہ وہ لوگوں کو سردی سے بچاؤ کے لیے وہاں قیام کرنے دیں۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس