1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کی نظریں پاکستان پر ہیں، ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن نے آج اسلام آباد میں کہا کہ اتحادی افواج افغانستان میں طالبان پر دباؤ بڑھا رہی ہیں جبکہ سرحد پار امریکہ کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں کہ وہ امن مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے طالبان کی حوصلہ افزائی کرے۔

default

جمعے کو اسلام آباد میں اپنی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ طالبان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو مذاکرات کے عمل میں لانا چاہیے اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو دہشت گردی کو بڑھنے سے ہر حال روکنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے مذاکرات کے عمل میں امریکہ اور پاکستان کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ہلیری کلنٹن نے کہا، ’’ہمیں دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج کا سامنا ہے اور ہم طالبان اور حقانی نیٹ ورک سمیت ان تمام شدت پسندوں کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں، جو ہمارے لیے خطرہ ہیں۔‘‘اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ نے کہا، ’’ہمیں اس بات پر اتفاق کرنا ہو گا کہ شدت پسند کافی عرصے سے پاکستان کی سرزمین پر سرگرم ہیں۔ کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ معصوم پاکستانی، افغان یا امریکی شہریوں کو قتل کرے۔‘‘

Hillary Clinton in Pakistan


پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ایک بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ ان کی اس بات سے متفق ہیں کہ پاکستان افغانستان یا عراق نہیں ہے۔ پاکستان کو امداد کی فراہمی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو کروڑوں ڈالر کی امداد دی ہے۔ پاکستانی حکومت کو چاہیے کہ وہ بدعنوانی کا خاتمہ کر کے اصلاحات معتارف کرائے اور عوام کو بھی چاہیے کہ وہ حکومت سے ان اقدامات کا مطالبہ کریں۔
پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان خطے خصوصاً افغانستان میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں غلط فہمیاں دور ہونی چاہیئں۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے پاکستانی پارلیمان اور سیاسی قیادت کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔

Flash-Galerie Forbes Liste Die mächtigsten Frauen der Welt


حنا ربانی کھر نے کہا، ’’مجھے واضح کرنے دیجیے کہ مستقبل میں کوئی بھی حکمت عملی مرتب کرنے سے پہلے حکومت کل جماعتی کانفرنس کی متفقہ قرارداد کے اصولوں سے رہنمائی حاصل کرے گی، جس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ امن کو ایک موقع دیا جائے۔‘‘
دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں تاجروں، طلباء اور سول سوسائٹی کے ارکان کے گروپوں سے بھی ملاقات کی۔ مختلف سوالوں کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ پاکستان میں بلیک واٹر کا کوئی وجود نہیں اور امریکہ پاکستان کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف بیس لاکھ افراد ٹیکس دیتے ہیں جو انتہائی کم ہے۔ ان کے بقول پاکستانی معیشت کی بہتری کے لیے ملک میں جامع اصلاحات معتارف کرانا ہوں گی۔
رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد
ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس