1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کی طرف سے یمنی عسکریت پسندوں پر حملوں میں اضافہ

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکہ نے یمن میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون طیاروں اور جیٹ لڑاکا طیاروں کے ذریعے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

default

اخبار کے مطابق ان حالات میں کہ جب صنعاء حکومت اپنا وجود برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے، امریکی حملوں میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تیزی ہوئی ہے۔ نیویارک ٹائمز میں بدھ کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایک طرف سے ملک میں پیدا شدہ طاقت کے خلاء سے فائدہ اٹھانا ہے تو دوسری طرف القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کو ملک میں طاقت حاصل کرنے سے باز رکھنے کی کوشش بھی ہے۔

قبل ازیں بدھ کے روز امریکی جوائنٹس چیف آف اسٹاف کے سربراہ مائیک مولن کا کہنا تھا کہ القاعدہ نیٹ ورک میں یمنی القاعدہ زیادہ متحد اور خطرناک ہوتی جارہی ہے: ’’ یہ انتہائی خطرناک ہے اور جاری افراتفری نے اسے مزید مہلک بنا دیا ہے۔‘‘

یمن میں گزشہ چار ماہ سے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ تین دہائیوں سے برسر اقتدار صدر صالح فوری طور پر اقتدار سے علیحدہ ہوجائیں۔ جواباﹰ حکومتی فورسز مظاہرین کے خلاف پر تشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک 350 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

صدارتی محل پر حملے کے باعث زخمی صدر علی عبداللہ صالح علاج کے لیے سعودی عرب میں ہیں

صدارتی محل پر حملے کے باعث زخمی صدر علی عبداللہ صالح علاج کے لیے سعودی عرب میں ہیں

گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دارالحکومت صنعاء میں صدر صالح کی حامی فوجوں اور قبائلی سرداروں کے درمیان لڑائی کے نتیجے درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسی لڑائی کے دوران صدارتی محل پر حملے کے نتیجے میں صدر علی عبداللہ صالح زخمی ہوگئے اور اب وہ علاج کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔

ان حالات میں یمن کے جنوبی علاقوں میں القاعدہ کے خلاف برسر پیکار فوجیوں کو صنعاء طلب کر لیا گیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام سمجھتے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے خلاف حملوں سے انہیں اپنی قوت مجتمع کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

جعمہ تین جون کو امریکی حملے میں القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند ابو الحارثی کے علاوہ اس دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والے کئی دیگر ارکان ہلاک ہوگئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں چار عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: کشور مُصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس