1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کی ایٹمی پالیسی میں ’تبدیلی‘ کا امکان

سرد جنگ کے دوران امریکہ نے نہ صرف کئی جوہری دھماکوں کے تجربات کئے بلکہ مہلک ہتھیاروں کا بڑے پیمانے پرذخیرہ بھی کیا۔ اب امریکی انتظامیہ اس کشمکش میں مبتلا نظر آتی ہے کہ آیا ہتھیاروں کے ذخیرے کو کم کیا جائے یا نہیں؟

default

امریکی انتظامیہ کے ایک اعلٰی عہدے دار نے دعوٰی کیا ہے کہ صدر باراک اوبامہ ملک کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے میں بہت حد تک کمی کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم اس عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکہ کی جوہری پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوگی یا نہیں۔

ایک خبر رساں ادارے کو نام نہ بتانے کی شرط پر اس امریکی عہدیدار نے بتایا کہ جوہری ہتھیاروں سے متعلق پالیسی کا جائزہ لیا جارہا ہے، جو اس ماہ کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔ عہدیدار کا دعویٰ تھا کہ اس جائزے کے بعد مرتب ہونے والی پالیسی میں نیوکلیئرہتھیاروں میں بڑی حد تک کمی کی سفارش کی جائے گی۔

امریکی عہدے دار کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ روایتی ہتھیاروں کے ذریعے اپنی قابل اعتبار اور مضبوط دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

اس بات کو یقینی بنانے کے لئے بجٹ میں رقم بھی مختص کی گئی ہے اور تمام اخراجات اِسی سے پورے کئے جائیں گے۔

Anti-Atom Demonstration in London

جوہری ہتھیاروں سے دنیا کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر کئی تنظیمیں ان مہلک ہتھیاروں پر مکمل پابندی چاہتی ہیں۔

امریکی عہدیدار نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت روایتی ہتھیاروں پر انحصار کیا جائے گا اور زیر زمین نشانوں کو تباہ کرنے والے بنکر بسٹر ایٹمی ہتھیار تیار نہیں کئے جائیں گے۔

امریکی صدراوبامہ اس بات کا اعادہ کرچکے ہیں کہ وہ دنیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ برس پراگ میں اپنے تاریخی خطاب میں انہوں نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے اپنا موقف بیان کرتے ہوئے کہا تھا: "جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو کم کرنے کے لئے، میری انتظامیہ ہتھیاروں کے تجربات سے متعلق ہونے والی کانفرنس کی سفارشات پرعملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔‘‘

لیکن باراک اوبامہ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ امریکہ یہ کمی یکطرفہ طور پر نہیں کرے گا: "کسی کو اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، جب تک دوسرے ممالک کے پاس جوہری ہتھیارہیں، امریکہ بھی ایسے ہتھیاروں کے ذخیروں کو رکھے گا تاکہ کسی بھی جارحیت کے خلاف ملک کا بھرپور دفاع کیا جا سکے۔"

امریکی کانگریس میں صدر اوبامہ کے بعض سیاسی ساتھیوں کا خیال ہے کہ اگرامریکہ پر حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ ہوتا ہے تو واشنگٹن کو ایسی صورتحال میں دشمن کے خلاف ایٹمی ہتھیاروں کو استعمال کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ یہ اراکینِ کانگریس چاہتے ہیں کہ امریکہ کے اس حق کو نئی ایٹمی پالیسی میں تسلیم کیا جانا چاہیے جبکہ بعض دوسرے ارکان کا خیال ہے کہ جوہری ہھتیاروں کا استعمال صرف دفاعی مقاصد کے لئے ہی ہونا چاہیے۔

تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ صدر اوبامہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مشروط بنائیں گے یا اس کے استعمال میں ابہام ہی رکھیں گے۔

امریکی وزیرِدفاع رابرٹ گیٹس آج ہی اوبامہ کو جوہری پالیسی سے متعلق اپنی وزارت کی سفارشات اور تجاویز کا ایک مسودہ پیش کرنے والے ہیں۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ یہ مسودہ نہ صرف امریکہ کی جوہری پالیسی پر اثر انداز ہوگا بلکہ دنیا کی دوسری طاقتور ریاستوں پر بھی اس کا بالواسطہ اثر پڑنا یقینی ہے۔

رپورٹ: عبدالستار

ادارت: گوہر نذیر گیلانی