1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کو جنگیں 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑیں، رپورٹ

جب امریکی صدر باراک اوباما نے افغانستان سے فوج واپس بلانے کی ایک وجہ اخراجات قرار دی تھی تو اس کا مطلب امریکہ کی طرف سے جنگوں پر اب تک خرچ کیے جانے والے ایک ٹریلین ڈالرز تھے۔

default

بدھ 29 جون کو جاری کی جانے والی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق، افغانستان اور پاکستان میں جاری جنگوں کے باعث امریکی خزانے کو ہونے والے نقصان کا اندازہ اصل سے بہت کم کر کے پیش کیا گیا ہے۔ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ’جنگی اخراجات‘ (Costs of War) نامی ریسرچ پراجیکٹ کے مطابق امریکی معیشت کو یہ جنگیں کم از کم 3.7 ٹریلین ڈالرز میں پڑی ہیں، بلکہ یہ اخراجات 4.4 ٹریلین ڈالرز تک ہو سکتے ہیں۔

اس تحقیقی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد 2001ء میں افغانستان میں القاعدہ لیڈروں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے امریکی فوجوں کی وہاں روانگی اور دیگر تنازعات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ 2.3 ٹریلین سے 2.7 ٹریلین ڈالر تک ہے۔

اس اسٹڈی کے مطابق اگر ایسی تفصیلات میں جایا جائے، جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، تو یہ اخراجات مزید بڑھ جائیں گے، مثلاﹰ ان جنگوں کے دوران زخمی ہونے والے فوجیوں کا علاج معالجہ اور 2012ء سے 2020ء تک اٹھنے والے اخراجات وغیرہ۔ کم از کم ایک ٹریلین ڈالرز تو سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے جبکہ کئی بلین ڈالرز ایسے بھی ہیں، جن کو کبھی حساب کتاب میں لایا ہی نہیں جا سکتا۔

عراق میں ایک لاکھ 25 ہزار شہری جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنے

عراق میں ایک لاکھ 25 ہزار شہری جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنے

اس پراجیکٹ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کا انسانی حوالے سے نقصان بھی ناقابل تلافی ہے۔ اندازوں کے مطابق 224000 سے 258000 افراد ان جنگوں میں لقمہ اجل بنے۔ ان میں سے ایک لاکھ 25 ہزار شہری تو صرف عراق میں جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ اس تعداد میں ان اموات کا شمار نہیں ہے، جو جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر حالات کے سبب ہوئیں، مثلاﹰ پینے کے صاف پانی سے محرومی، صحت اور خوراک کی عدم دستیابی وغیرہ۔

رپورٹ کے مطابق ان جنگوں کے باعث 365000 افراد زخمی ہوئے جبکہ 78 لاکھ سے زائد افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ تعداد امریکی ریاستوں کنیکٹیکٹ اور کینٹکی کی مجموعی آبادی سے بھی زیادہ بنتی ہے۔

Costs of War نامی اس ریسرچ پراجیکٹ میں جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات اور جانی نقصانات کا اندازہ لگانے کے لیے 20 دانشوروں نے مل کر کام کیا۔ اس پراجیکٹ اور اس کی مرتب کردہ رپورٹ کے بارے میں تفصیلات ان کی ویب سائٹ http://www.costsofwar.org پر دستیاب ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس