1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کا عراق میں ایرانی اپوزیشن گروپ سے مطالبہ

امریکی حکام نے عراق میں موجود ایک ایرانی اپوزیشن گروپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کا تجویز کردہ منصوبہ قبول کرتے ہوئے اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی نئی جگہ پر منتقل کر دے۔

default

پیپلز مجاہدین کو مجاہدین خلق بھی کہا جاتا ہے

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکی حکام کی طرف سے یہ مطالبہ کل پیر کی رات کیا گیا۔ ایران کے سیاسی منحرفین کے اس گروپ کو اپنے ارکان کو عراق ہی میں کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کا اس لیے کہا گیا ہےکہ اس تنظیم کے عراقی حکومت کے ساتھ پائے جانے والے طویل تنازعے کو ختم کیا جا سکے۔ اس گروپ کا نام پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن ہے اور اسے امریکہ،ایران اور عراق ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ اس تنظیم کے ارکان کی طرف سے سن 2003 میں عراق کے سابق ‌ڈکٹیٹر صدام حسین کے دور حکومت کے خاتمے سے پہلے تک عراقی سرزمین سے ایران پر حملے کیے جاتے تھے۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان مسلح ارکان کے کیمپ اشرف نامی مرکز کو بند کرنے کا اردہ رکھتی ہے۔

اس کیمپ میں تقریبا 3000 ایرانی منحرفین رہتے ہیں۔ کیمپ اشرف بغداد کے شمال میں واقع ہے اور عراقی حکومت کہہ چکی ہے کہ وہ پیپلز مجاہدین کے اس کیمپ کو اس سال کے آخر تک بند کر دینا چاہتی ہے۔ لیکن سال رواں کے ختم ہونے میں اب دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے اور ایرانی سیاسی منحرفین اور بغداد حکومت ابھی تک کیمپ اشرف کی بندش اور ان جلاوطن ایرانیوں کی کسی دوسری جگہ منتقلی سے متعلق کوئی قابل عمل حل نکالنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

امریکی حکام کے مطابق اقوام متحدہ نے پیپلز مجاہدین کو جس دوسری جگہ منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے وہ جگہ بغداد ائرپورٹ کے نزدیک واقع ہے۔ پیپلز مجاہدین کو مجاہدین خلق بھی کہا جاتا ہے اور امریکی اہلکاروں کے مطابق اقوام متحدہ کی سوچ یہ ہے کہ ان ایرانی جلاوطن شہریوں کی بغداد ائرپورٹ کے قریب منتقلی کے بعد خود اقوام متحدہ کا ادارہ ہی ان کی مونیٹرنگ بھی کرے گا۔

Camp Ashraf NO FLASH

کیمپ اشرف میں میں تقریبا 3000 ایرانی منحرفین رہتے ہیں

عالمی ادارے کے منصوبے کے مطابق بعد میں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان ایرانی اپوزیشن کارکنوں اور جلاوطن شہریوں کو مہاجرین کے طور پر دوسری جگہوں پر آباد کرنے کی کوشش کی جائے۔

ایرانی حکومت کے ان مخالفین کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہو گا۔ ان میں سے بعض اپنی ایران واپسی سے خوف کھاتے ہیں کیونکہ ایران میں انہیں ریاست کا دشمن سمجھا جاتا ہے۔

مجاہدین خلق کے بہت سے دیگر ارکان کو امریکہ اور کئی دوسرے ملک دہشت گرد بھی سمجھتے ہیں۔ مجاہدین خلق کے مسلح ارکان نے ستر کے عشرے میں ایران میں رضا شاہ پہلوی کے خلاف ایک گوریلا تحریک میں بھی حصہ لیا تھا۔ رضا شاہ پہلوی کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی اور اسی لیے مجاہدین خلق کی طرف سے امریکی اہداف پر بھی کئی گوریلا حملے کیے گئے تھے۔

مجاہدین خلق سے عراق ہی میں کسی دوسرے جگہ منتقل ہو جانے پر آمادگی کا مطالبہ کرنے والے امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا، لیکن انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس ایرانی اپوزیشن تنظیم کو اقوام متحدہ کے منصوبے پر ردعمل کے سلسلے میں حقیقیت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM