1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ کا جرمنی سے بینکوں کی امداد کا مطالبہ مسترد

امریکی وزیر مالیات Henry Paulson کے سات سو بلین ڈالر کے مالیاتی فنڈزمیں جرمنی سے امداد کے مطالبے کو برلن حکومت نے رد کر دیا ہے۔

default

امریکی سیکریٹری خزانہ ہنری پاؤلسن

عالمی مالیاتی منڈی کا بحران سنگین شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ امریکی وزیر مالیات Henry Paulson سات سو بلین ڈالر کے مالیاتی فنڈز قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا مقصد امریکی بینکوں کے بونڈز خرید کر انہیں تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ امریکہ نے جرمنی سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی اقتصادی بحران دور کرنے کے لئے اس فنڈ میں مالیاتی مدد کرے۔ تاہم جرمن سیاسی حلقے کی طرف سے اس مطالبے کو رد کر دیا گیا ہے

’’امریکی بینکوں کا بحران خود امریکہ کا اپنا پیدا کردہ ہے اس لئے جرمنی اس میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘‘ ان سخت الفاظ کے ساتھ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے گزشتہ ویک اینڈ پر آسٹریا کے معروف مقام لنز میں منعقدہ اقتصادی کانگریس میں امریکی وزیر مالیت کے اس مطالبہ کو رد کر دیا تھا جس میں سات سو بلین ڈالر کے فنڈ میں جرمنی کو بھی شریک ہونے کے لئے کہا گیا تھا۔ پیر کے روز برلن میں کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی سی ڈی یو کے ایک اجلاس میں انگیلا میرکل نے کہا ’’یہ معاملہ ٹرانسپیرنسی یا شفافیت کا ہے۔ جب کوئی ملک مالیاتی منڈی میں کوئی اخترائی یا جدت پسندانہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کرے تو اسے اپنا سرمایہ لگانا چاہئے۔‘‘

جرمن چانسلر نے یہ بیانات تقریباٍ ایک ہزار حاضرین کے مجمع سے خطاب کرتےہوئے دئے ۔ میرکل کے مطابق ان خیالات کا اظہار وہ مالیاتی منڈی کے بحران کے عالمی اقتصادیات پر رونماء ہونے والے اثرات کو مد نظر رکھتے ہوئے کر رہی ہیں۔

Deutschland Bundestag Haushalt Merkel und Steinbrück

جرمنی کے سیاستدانوں اور ماہرین کو اس امر کا پورا اندازہ ہے کہ امریکی بینکوں، مالیاتی اداروں اور زمین کی خرید و فروخت کی تجارت کا بحران جرمن اقتصادیات پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق جرمن حکومت آئندہ سال کے لئے اپنی ترقیاتی سطح کی پیشنگوئی کو ایک عشاریہ دو فیصد کی شرح سے کم کرکہ اسے سفر عشاریہ پانچ تک کر دے گی۔ تاہم جرمن وزیر مالیات اور سوشل ڈیموکریٹ لیڈرPeer Steinbrück کا خیال ہے کہ جرمن اقتصادیات اتنی طاقتور ہے کہ وہ موجودہ عالمی بحران کا بوچھ سہار لے گی۔

اشٹائن بُرک نے ایک بیان میں کہا کہ موجودہ بحران کے سب سے گہرے اثرات امریکہ پر مرتب ہونگے تاہم یورپ بھی اس سے خاصا متاثر ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ یہ صورتحال سنگین نہیں ہے۔ لیکن ان کا یہ ماننا ہے کہ جرمنی اُس طرح سے متاثر نہیں ہوگا جس طرح امریکہ ہوا ہے۔

اُدھر جرمنی کی لیبر یونین کے سربراہ Michael Sommer نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اقتصادی بحران کی اصل وجہ مالیاتی منڈیوں پر کسی قسم کا کنٹرول نہ ہونا ہے۔ میشائیل زومرجرمن ترقیاتی اور قرضہ دینے والے بینک KFW کو بھی بالکل آزاد اور بغیر کسی کنٹرول کے چھوڑنے کے عمل کو درست نہیں سمجھتے۔