1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ کا افغانستان میں جنگ جاری رکھنے کا عزم

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے رسد کی فراہمی میں التواء کے باوجود ریاست ہائے متحدہ امریکہ افغانستان میں فوجی کارروائی جاری رکھے گا۔

default

ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کے بقول امریکہ ان دنوں پاکستانی حکومت کے کچھ بڑے مطالبات پر غور کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس عہدیدار کا نام پوشیدہ رکھتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اہم اتحادی ہے اور دو طرفہ تعلقات میں بہت بڑی تبدیلی کا خدشہ نہیں۔

امریکی محکمہء دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جورج لٹل نے واشنگٹن میں صحافیوں کوبتایا کہ افغانستان میں جنگی کارروائیاں جاری رہیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کی جانب سے سپلائی کی بندش کے بعد کتنے عرصے تک یہ مشن جاری رہ سکتا ہے تو انہوں نے کہا، ’’ میرے پاس ایسی ٹائم لائن نہیں جو میں آپ لوگوں کو بتاسکوں لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ جنگ جاری رہے گی، سب جانتے ہیں کہ افغانستان میں ہم ایک دشمن سے نبرد آزما ہیں اور امریکی فوج اس کے لیے تیار ہے۔‘‘

NO FLASH Afghanistan Hubschrauber abgeschossen SYMBOLBILD

پاکستانی حکام کے مطابق مہمند ایجنسی میں کی گئی کارروائی میں نیٹو کے ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے نے حصہ لیا

افغانستان میں قریب ایک لاکھ چالیس ہزار غیر ملکی فوجی متعین ہیں۔ ان میں سے 97 ہزار امریکی ہیں۔ 2001ء میں افغانستان پر حملے کے بعد سے ان غیر ملکی فوجیوں کے لیے قریب 50 فیصد رسد پاکستان کے راستے پہنچائی جاتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اس لیے بھی پاکستان پر انحصار کرتا ہے کہ اسلام آباد حکومت اپنے یہاں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرے۔ اس کے علاوہ پاکستانی حدود میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے تحت ڈرون حملے بھی شدت کے ساتھ کیے جا رہے ہیں۔ ان حملوں کے لیے طویل عرصے سے بلوچستان کی شمسی ایئر بیس کا استعمال کیا جا تا رہا اب پاکستان نے امریکہ سے اس ایئر بیس کو 15 روز کے اندر خالی کرنے کا کہا ہے۔

امریکی محکمہء دفاع کے مطابق فوجی اور سیاسی قیادت پاکستانیوں کے ساتھ مل کر آگے کے راستے کا تعین کر رہی ہے۔ افغانستان متعین اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل جون ایلن مہمند ایجنسی کے واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں۔ گزشتہ روز جائے وقوعہ کے معائنے کے لیے ایک دستہ بھی بھیجا جاچکا ہے۔ پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جورج لٹل کے بقول واقعے کے بعد جنرل ایلن نے پاکستانی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے بات بھی کی ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: شامل شمس

DW.COM