1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ پاکستان کی بجائے افغانستان پر توجہ دے، جنرل کیانی

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کی بجائے اپنی توجہ افغانستان کی صورت حال میں استحکام لانے کی کوششوں پر مرکوز رکھنی چاہیے۔

default

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی

جنرل کیانی نے قومی پارلیمان کی دفاعی امور کی کمیٹی کے ایک اجلاس میں شرکا کو بتایا کہ امریکہ پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقے میں عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تاہم کیانی کے بقول ہونا یہ چاہیے کہ امریکہ پاکستان پر یہ دباؤ ڈالتے رہنے کی بجائے افغانستان کے حالات میں بہتری لانے پر زیادہ توجہ دے۔

پاکستانی پارلیمان کی دفاعی امور کی کمیٹی کے ایک رکن نے آج بدھ کو خبر ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ جنرل کیانی نے اس کمیٹی کے سامنے کھل کر کہا کہ یہ فیصلہ کسی بیرونی دباؤ کے بغیر پاکستان خود کرے گا کہ آیا اسے اپنے سرحدی قبائلی علاقوں میں کوئی جامع فوجی آپریشن کرنا چاہیے، اور اگر ایسا کوئی آپریشن کیا جائے تو وہ کب کیا جانا چاہیے۔

Montage Hamid Karzai Afghanistan Flagge

افغان صدر حامد کر زئی

روئٹرز نے اسلام آباد سے اپنے ایک تفصیلی جائزے میں لکھا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات میں پہلے ہی کچھاؤ پایا جاتا ہے۔ اب جنرل کیانی کا یہ بیان ممکنہ طور پر واشنگٹن اور اسلام آباد کے دوطرفہ روابط میں موجودہ بحران کو اور بھی شدید بنا سکتا ہے۔ روئٹرز نے اپنے جائزے میں اس امکان کی وجہ یہ لکھی ہے کہ پروگرام کے مطابق نیٹو دستوں کو سن 2014 تک افغانستان سے رخصت ہونا ہے، اور افغانستان میں حالات میں بہتری کے لیے پاکستانی امریکی اتحاد انتہائی ضروری ہے۔

دفاعی امور کی کمیٹی کے رکن، جس نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی درخواست کی، یہ بھی بتایا کہ جنرل کیانی کے بقول شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مطابق کئی ایسے عسکریت پسند گروپوں کی محفوظ پناہ گاہیں قائم ہیں، جو سرحد پار سے افغانستان میں امریکہ کی سربراہی میں فرائض انجام دینے والے نیٹو دستوں پر مسلح حملے کرتے ہیں۔

Afghanistan Kabul Anschlag Taliban NATO UN Botschaften Botschaftsviertel

اس موقع پر کیانی نے کہا، ’’یہ فیصلہ صرف پاکستان کرے گا کہ اس علاقے میں اگر شدت پسندوں کے خلاف کوئی بھرپور فوجی آپریشن کیا جائے گا تو وہ کب کیا جانا چاہیے۔‘‘ اس کے علاوہ پاکستانی فوج کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو پاکستان کے اس علاقے میں یکطرفہ طور پر کوئی بھی فوجی آپریشن کرنے سے پہلے کم از کم دس مرتبہ سوچنا ہو گا۔

پاکستانی پارلیمان کی دفاعی امور کی کمیٹی کے اس رکن نے جنرل کیانی کے بیان میں ان کے اس مؤقف کا حوالہ بھی دیا کہ شمالی وزیرستان میں کوئی بھی فوجی آپریشن انتہائی پر خطر ہو گا اور یہ کہ ’پاکستان عراق یا افغانستان نہیں ہے۔‘

روئٹرز کے مطابق جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یہ باتیں ملکی فوج کے ہیڈ کوارٹرز میں ایک نیشنل سکیورٹی بریفنگ کے دوران کہیں۔ اس دوران جنرل کیانی نے کھل کر کہا، ’اصل مسئلہ افغانستان میں ہے، پاکستان میں نہیں۔‘

دفاعی ماہرین کے بقول پاکستانی فوج شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے خلاف کوئی بڑا آپریشن کرنے سے اس لیے ہچکچا رہی ہے کہ اس کے بقول وہ پہلے ہی ملک کے دوسرے حصوں میں مقامی شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں بہت مصروف ہے اور فی الحال اپنے خلاف ایک نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس