1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ، پاکستان: کل کے دوست اور آج کے ...

آج کل نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات سرمہری کا شکار ہیں بلکہ پاکستان اور امریکہ کے حوالے سے بھی یہ پتہ نہیں چل رہا کہ آیا کل کے دوست واقعی آج کل کے حریف بن چکے ہیں۔

default

افغانستان کے صدر حامد کرزئی بھارتی دارالحکومت نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ اُن کا یہ دورہ ایک ایسے وقت پر عمل میں آ رہا ہے، جب پاک افغان تعلقات گزشتہ مہینے کابل میں پروفیسر برہان الدین ربانی کے قتل کی وجہ سے سرد مہری کا شکار ہو چکے ہیں کیونکہ کرزئی اس قتل کا الزام پاکستان میں موجود طالبان انتہا پسندوں پر عائد کر رہے ہیں۔

 دوسری طرف امریکہ کو افغانستان میں فوجی کارروائی کے سلسلے میں مدد فراہم کرنے والے پاکستان کے خفیہ ادارے کو امریکہ کی طرف سے بھی اس الزام کا سامنا ہے کہ وہ طالبان دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے۔ یوں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی سخت تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے اسرار شاہ سن 2007ء میں ہونے والے ایک دہشت گردانہ حملے میں اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں:’’مجھے دیکھیے۔ مَیں یہاں اپنے جسم کے آدھے حصے کے بغیر آپ کے سامنے بیٹھا ہوں۔ مَیں اُن تمام انسانوں کی ایک علامت ہوں، جو اس طرح کے حملوں میں مارے گئےہیں۔‘‘

امریکہ کے ایڈمرل مائیک مولن نے واشگاف الفاظ میں حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا ہی ایک بازو قرار دیا

امریکہ کے ایڈمرل مائیک مولن نے واشگاف الفاظ میں حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا ہی ایک بازو قرار دیا

اسرار شاہ پاکستان کی سب سے آزاد خیال، سب سے زیادہ مغربی اور سب سے زیادہ دُنیاوی سوچ کی حامل جماعت کے سیاستدان ہیں لیکن وہ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھی بن جانا ایک غلطی تھی۔ بلا شبہ اکتوبر سن 2001ء میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے پاکستان میں پُر تشدد واقعات کی ایک زبردست لہر دیکھنے میں آئی ہے۔ سوال لیکن یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ اس سوال کے جواب میں طالبان سے متعلقہ امور کے ماہر احمد رشید کہتے ہیں:’’میرے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی فوج اور خفیہ ادارہ اب تک جو بھی حکمت عملی اپنائے ہوئے تھے، امریکہ اُس کی طرف سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔ یہ پالیسی یہ تھی کہ القاعدہ کے خلاف کارروائی بھی کی جائے لیکن ساتھ ساتھ طالبان کی معاونت بھی کی جائے۔‘‘

ایسے میں طالبان کو بڑے سکون کے ساتھ پاکستان میں اپنی قوتیں مجتمع کرنے کا موقع مل گیا بلکہ پاکستانی طالبان کے نام سے ایک باقاعدہ تحریک بھی عمل میں آ گئی۔ امریکہ کو گلہ ہے کہ افغان طالبان کے خلاف پاکستانی سکیورٹی فورسز آج بھی کوئی کارروائی نہیں کر رہیں، جیسا کہ حال ہی میں امریکہ کے ایڈمرل مائیک مولن نے واشگاف الفاظ میں کہا بھی۔ مولن نے حقانی نیٹ ورک کو آئی ایس آئی کا ہی ایک بازو قرار دیا۔ جواب میں امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا:’’آپ پاکستان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘

امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا:’’آپ پاکستان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘

امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا:’’آپ پاکستان کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لینے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘‘

تو کیا اب یہ سمجھا جائے کہ پاکستان اور امریکہ، جو کل کے حلیف تھے، آج ایک دوسرے کے حریف بن چکے ہیں؟ 2014ء میں افغانستان سے مغربی دُنیا کے فوجی دستوں کے انخلاء کے منصوبوں کے پیشِ نظر پاکستان کی اس سوچ کو اور بھی تقویت مل رہی ہے کہ وہ طالبان سمیت تمام امکانات کے دروازے کھلے رکھے۔ سیاسی امور کی پاکستانی ماہر قطرینہ حسین کہتی ہیں:’’افغانستان میں آخری کھیل اب شروع ہو رہا ہے۔ پاکستان کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اُس کے مفادات متاثر نہ ہوں۔ امریکہ تو چلا جائے گا، ہمیں لیکن افغانستان کے ساتھ ہمیشہ رہنا ہے۔‘‘

چونکہ اَسی کے عشرے میں افغانستان میں سابق سوویت یونین کے خلاف جنگ کے لیے پاکستان اور امریکہ دونوں نے مل کر اسلامی انتہا پسندی کا جِنّ تخلیق کیا تھا، اس لیے اب اِن دونوں کا ہی یہ فرض بھی بنتا ہے کہ وہ اِس جِنّ کو واپَس بوتل میں بھی بند کریں۔ یہ اور بات ہے کہ آج کل کے حالات میں پاک امریکہ مشترکہ کوششوں کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

رپورٹ: کائی کیوسٹنر (نئی دہلی) /  امجد علی

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM