1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’امریکہ پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف لڑ رہا ہے‘

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق سربراہ اور موجودہ وزیر دفاع لیون پنیٹا نے کہا ہے کہ واشنگٹن عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان میں نبرد آزما ہے، مستحکم و محفوظ پاکستان مستحکم افغانستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔

default

پنیٹا نے یہ بات واشنگٹن میں ’دفاعی ترجیحات:آج اور کل‘ کے عنوان کے تحت منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کہی۔ اعلیٰ امریکی عہدیدار باضابطہ طور پر ڈرون حملوں کی ذمہ داری سے متعلق اس طرح شاذ و نادر ہی بیانات دیتے ہیں۔ امریکی وزیر کے بقول پاکستانی حکام نے قبائلی علاقے میں القاعدہ سے مقابلے کے لیے امریکہ کو تعاون فراہم کیا اور اب بھی کر رہے ہیں۔ 

پنیٹا نے پاکستان کے ساتھ پیچیدہ تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے، ’اس کی بہت سے وجوہات ہیں، ہم ان کے ملک میں جنگ لڑ رہے ہیں‘۔ ان کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں کے اسلام آباد کے ساتھ روابط کی وجہ سے امریکہ اور پاکستان کے مابین اب بھی کڑے اختلافات موجود ہیں۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے جوہری ہتھیاروں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔

رواں سال مئی میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد سے اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق قبائلی علاقوں میں 30 سے زائد ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔  لیون پنیٹا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری رہے گا، ’سی آئی اے سے پنیٹاگون چلے جانے کے بعد مجھے اور زیادہ ہتھیار دستیاب ہوگئے ہیں، اگرچہ پریڈیٹڑز ’ڈرون‘ بھی برے نہیں‘۔

Pakistan Premierminister Yusuf Raza Gilani

پاکستانی حکومت ڈرون حملوں کو ملکی سالمیت کے منافی تصور کرتی ہے

انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے کہ افغانستان کے ساتھ طویل المدتی تعلقات قائم رکھے تاکہ القاعدہ کے دہشت گرد دوبارہ وہاں محفوظ ٹھکانے نہ بناسکیں۔ مستقبل میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ ہنگامہ خیز رہیں گے مگر مکمل طور پر منقطع نہیں ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ افغانستان کے مسائل اس وقت تک ختم نہیں کیے جاسکتے، جب تک پاکستان کے مسائل حل نہیں کر لیے جاتے۔

امریکہ کے اقتصادی مسائل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ عسکری اخراجات میں کمی کرکے ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جانی چاہیں۔ پنیٹا کا کہنا تھا کہ ان کا کام تقدیر کے فیصلے قبول کرنا نہیں تقدیر لکھنا اور ایک مضبوط عسکری اور اقتصادی قوت کے طور پر امریکہ کو اس بحران سے نکالنا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM