1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

امریکہ نے کاربن کے ا‌خراج میں کمی کے ہدف کا اعلان کر دیا

امریکہ نےکاربن گیس کے اخراج میں کمی کے لئے اپنے ہدف کا اعلان کر دیاہے۔ وائٹ ہاؤس کےمطابق کوپن ہیگن کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران کاربن کے اخراج میں سترہ فیصد کمی کی تجویز پیش کی جائے گی۔

default

چین اور امریکہ کا شمار کاربن گیس کا اخراج کرنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے

واشنگٹن انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ باراک اوباما کوپن ہیگن کانفرنس کے ابتدائی سیشن میں بھی شریک ہوں گے۔ یہ کانفرنس سات سے اٹھارہ دسمبر تک جاری رہے گی۔ تاہم اوباما وہاں نو دسمبر کو پہنچیں گے۔ کانفرنس کےاہم حصے اس کے بعد ہی شروع ہوں گے جبکہ بیشتر عالمی رہنما بھی کانفرنس کے آخری دنوں میں وہاں پہنچیں گے۔

Obama / Ankunft in Tokio

اوباما کوپن ہیگن کانفرنس کے ابتدائی سیشن میں شریک ہوں گے

امریکی صدر باراک اوباما دراصل اپنا نوبل امن انعام وصول کرنے کے لئے یورپ جا رہے ہیں، جس کی تقریب دس دسمبر کو اوسلو میں منعقد ہو گی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں یہ کمی 2005ء کے تناسب سے دوہزار بیس تک کی جائے گی۔ یہ اقوام متحدہ کے معاہدوں میں استعمال کئے گئے 1990ء کے بینچ مارک سے تین فیصد کم جبکہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کردہ قانون کے مطابق ہے۔

امریکی مذاکرات کاروں نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے سینیٹروں سے صلاح مشورہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں حتمی قانون آنے پر اس ہدف میں کمی یا زیادتی کی جا سکتی ہے۔ تاہم کوپن ہیگن کے کسی بھی معاہدے کی توثیق کے لئے سینیٹ کی حمایت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے اس اقدام کا مقصد بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت پر قابو پانا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ باراک اوباما کی شرکت سے کوپن ہیگن کی کانفرنس مزید فعال ثابت ہو گی۔

اُدھر اقوام متحدہ کے سربراہ برائے ماحولیات ایو دی بوئر نے جرمنی میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا، 'اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ کوپن ہیگن کانفرنس کو کامیاب ہونا چاہئے۔ وہ اس کانفرنس میں شرکت کر کے یہ وعدہ نبھا سکتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کانفرنس کے مثبت نتائج کے لئے اوباما کی شرکت اہم ہو گی۔'

رپورٹ : ندیم گل

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM