1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ نے پاکستان میں بغاوت کی افواہیں مسترد کر دیں

امریکہ نے پاکستان میں فوج کے اقتدار میں آنے کی افواہوں کو ردّ کر دیا ہے۔ واشنگٹن حکام کا یہ مؤقف پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی بیماری کی خبروں پر ردِ عمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

default

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے معاونین کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا، جس کے بعد وہ دبئی میں زیرِ علاج ہیں۔ اس تناظر میں ایسی افواہوں نے جنم لیا ہے کہ انہیں برطرف کیا جا رہا ہے۔

اس کے ردِ عمل میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے بدھ کو کہا: ’’ہم نے رپورٹیں دیکھی ہیں۔ ہم ان کی صحت کی جلد بحالی کی اُمید کرتے ہیں۔‘‘

محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر سے جب پوچھا گیا کہ کیا پاکستانی صدر کے خلاف خاموش بغاوت کے عمل پر امریکہ کو پریشانی ہے تو انہوں نےکہا کہ ایسی قیاس آرائیوں پر یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تشویش ہے۔

مارک ٹونر نے کہا: ’’ہمارا ماننا ہے کہ یہ پوری طرح سے ان کی صحت سے متعلق ہے۔‘‘

زرداری کی بیماری پر میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئیں کہ وہ مستعفی ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔  خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان کے قریبی ساتھیوں نے اس باتوں کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

پاکستان کے صدر آصف زرداری

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفیٰ کھوکھر کا کہنا ہے کہ زرداری کو منگل کو دل کا دورہ پڑا تھا، جو معمولی نوعیت کا تھا۔

ان کا کہنا ہے: ’’وہ دبئی چلے گئے، جہاں ان کے دل کا معائنہ کیا گیا۔ اب ان کی حالت بہتر ہے۔‘‘

کھوکھر نے یہ بھی کہا کہ کسی طرح کے استعفے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔

زرداری کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ فوج کے ساتھ ان کے تعلقات ٹھیک نہیں، جو تاریخی اعتبار سے پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ ہے اور بارہا منتخب حکومتوں کو اقتدار سے بے دخل کر چکا ہے۔

چھپن سالہ زرداری نے علاج کے لیے ایسے وقت پاکستان چھوڑا، جب انہیں میمو گیٹ اسکینڈل کا سامنا ہے۔ جس کے تحت ان کے قریبی ساتھی اور امریکہ میں تعینات پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی پر الزام ہے کہ انہوں نے پاکستان میں فوج کے اختیارات کم کرنے کے لیے امریکی امداد حاصل کرنے کی کوشش کی۔

رپورٹ: ندیم گِل / اے ایف پی

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس