1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

امریکہ نے شام کے صدر بشار الاسد پر دباؤ بڑھا دیا

امریکہ نے شامی صدر بشار الاسد کی انتظامیہ کی جانب سے حکومت مخالفین پر ’ظالمانہ تشدد‘ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ شامی مصر سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔

default

وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ مذمتی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب شامی صدر بشار الاسد نے مظاہرین سے رعایت برتنے کا اعلان کیا ہے۔ عرب دنیا کی دیگر ریاستوں کی طرح شام میں بھی حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ طوالت کے ساتھ شدت اختیار کر رہا ہے۔

جمعرات کو سکیورٹی فورسز نے درعا شہر میں ایسے ہی مظاہرے کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کیا جس کے سبب متعدد ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔ اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 40 سے زیادہ بتائی جارہی ہے۔

Nahostbesuch Robert Gates und Ehud Barak

امریکی و اسرائیلی وزرائے دفاع

شام کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ شام کی حکومت کو بھی اُسی مشکل کا سامنا ہے جو اس سے قبل خطے کی دیگر ریاستوں میں دیکھی گئی۔

اسرائیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’ بعض نے اس مشکل کو دیگر کے مقابلے میں اچھی طرح سے نمٹایا، میں ابھی مصر سے آرہا ہوں، وہاں کی فوج ایک طرف رہی اور مظاہرین کو احتجاج کرنے دیا بلکہ حقیقت میں انقلاب کو قوی کیا، شامی اس سے سبق سیکھ سکتے ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ مصر کی فوج سالانہ بنیادوں پر امریکہ سے لگ بھگ 1.3 ارب ڈالر کی امداد وصول کرتی ہے۔ سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے حکومتی انتظام فوج ہی کے پاس ہے۔ اسرائیل میں گیٹس کے میزبان وزیر دفاع ایہود باراک نے شام کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ’’وہاں کے حالات کا خطے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال پر اثر کے بارے میں فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہے‘‘۔

Superteaser NO FLASH Syrien Proteste Demonstration

شام میں ایک مظاہرے کا منظر

دوسری جانب شام کے حوالے سے یہ قابل ذکر ہے کہ وہاں کے صدر بشار الاسد ایرانی حکومت کے قریبی ساتھی، اسرائیل مخالف مسلح فلسطینی مزاحمت کاروں کے معاون اور پڑوسی ملک لبنان کی داخلی سیاست کے حوالے سے خاصے اہم خیال کیے جاتے ہیں۔

لگ بھگ 20 ملین کی آبادی والے شام میں ان کی جماعت بعث پارٹی 1963ء کی فوجی بغاوت کے بعد سے حکومت کرتی آرہی ہے۔ حالیہ عوامی مزاحمت کے بعد جمعرات کو صدر بشار الاسد کی جانب سے غیر معمولی طور پر عوام کی مزید سیاسی آزادی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کا اعلان سامنے آیا۔ مبصرین کے بقول عین ممکن ہے کہ شام میں گزشتہ 48 برس سے نافذ ہنگامی حالت ختم کردی جائے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM